مرشد آباد کے جیا گنج میں آدھی رات کے وقت جشن اور 'جے شری رام' کے نعروں کے درمیان لینن کا مجسمہ توڑ دیا گیا۔ ریاست میں اقتدار کی تبدیلی اور بی جے پی کی جیت کے بعد پیش آنے والے اس واقعے نے علاقے میں سنسنی پھیلا دی ہے۔ یہ واقعہ مرشد آباد کے جیا گنج میں اجیم گنج میونسپلٹی کے وارڈ نمبر 2 میں واقع شری پت سنگھ کالج کے سامنے پیش آیا۔ یہ مجسمہ بائیں بازو (لیفٹ فرنٹ) کے دورِ اقتدار میں نصب کیا گیا تھا۔منگل کی رات تقریباً 10 بجے لوگوں کا ایک ہجوم وہاں جمع ہوا اور 'جے شری رام' کے نعرے لگاتے ہوئے مجسمے پر حملہ کر دیا۔ پہلے مجسمے کے سر اور چہرے کا حصہ توڑا گیا، اور پھر پورے ڈھانچے کو بنیاد سے اکھاڑ کر الٹ دیا گیا۔ہجوم میں شامل لوگوں کا کہنا تھا کہ اس جگہ اب لینن کے بجائے شیواجی مہاراج یا گوپال پانٹھا کا مجسمہ نصب کیا جائے گا۔ اس واقعے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہو رہی ہیں۔ اطلاع ملتے ہی جیا گنج تھانے کی پولیس موقع پر پہنچی، لیکن تب تک ملزمان فرار ہو چکے تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے شرپسندوں کی شناخت کر رہے ہیں اور ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ مرشد آباد میں اس بار بی جے پی نے آٹھ نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے، جس کے بعد سے ضلع کے مختلف حصوں میں سیاسی کشیدگی دیکھی جا رہی ہے۔
Source: PC-anandabazar
میتا نے ممتا بنرجی کی دی ہوئی ساڑھی پہن کر شادی کی
نندی گرام میں یوم شہدا کے موقع پر شوبھندوادھیکاری راستے میں
دھند کی وجہ سے موٹر سائیکل اور وین کی آمنے سامنے ٹکر ا گئی!2ہلاک
ممتا کے آتے ہی فوج نے ترنمول اسٹیج کو کھولنا روک دیا
ایم پی کھگن مرمو اور شنکر گھوش حملے کی زد میں
نیپال کی بدامنی بنگال میں بھی پھیل گئی، لیا گیا بڑا فیصلہ