پرانے مقدمے کی فائل کھلتے ہی مزید کونے میں دھکیلے گئے جہانگیر! نڈا کے قافلے پر حملے میں نئی تفتیش شروع تبدیلی کے بنگال میں پرانے مقدمے کو لے کر مزید دباو میں فلتا کے ’پشپا‘ جہانگیر خان۔ اب ان کے خلاف 6 سال پرانے مقدمے کی فائل کھول کر نئے سرے سے تفتیش شروع کر دی پولیس نے۔ ضلع پولیس ذرائع کے مطابق، 2020 میں ڈائمنڈ ہاربر جا رہے تھے اس وقت کے بی جے پی قومی صدر جے پی نڈا۔ شیراکول کے قریب ان کے قافلے کو نشانہ بنا کر بڑا حملہ کیا گیا۔ بمشکل نڈا سلامت رہے۔ اس حملے میں اہم ملزم کے طور پر نام شامل تھا فلتا کے ترنمول لیڈر جہانگیر خان کا۔ تاہم اس وقت انہیں کوئی سزا نہیں بھگتنی پڑی۔ اب ریاست میں سیاسی تبدیلی کے بعد انتخابات کے بعد کے تشدد میں پولیس کے جال میں پھنس گئے ہیں جہانگیر۔ اس وقت جیل میں ہیں۔ موجودہ مقدمے کے ساتھ ساتھ پرانے مقدمے کی بھی تفتیش شروع ہو گئی ہے ان کے خلاف۔ 2020 میں جنوبی 24 پرگنہ ضلع میں سیاسی پروگرام میں جانے کے دوران شیراکول کے قریب نڈا کے قافلے پر حملے کا واقعہ پیش آیا۔ اس وقت ان کے ہمراہ تھے ریاستی بی جے پی کے دو سابق صدور دلپ گھوش اور سکانت مجمدار۔ حملے کی سنگینی پر دلپ کا تبصرہ تھا، بلٹ پروف گاڑی نہ ہوتی تو اس دن موت بھی واقع ہو سکتی تھی۔ اس مقدمے میں پہلی ایف آئی آر میں نام تھا جہانگیر کا۔ بعد میں تفتیش کاروں کے ڈھیلے رویے کی وجہ سے ملزمان کے خلاف سخت کارروائی نہیں کی جا سکی، ایسا پولیس ذرائع کا کہنا ہے۔ اسی طرح سزا سے بچ کر پھر رعب جمانے لگے ’پشپا‘ جہانگیر۔
Source: PC-sangbadpratidin
میتا نے ممتا بنرجی کی دی ہوئی ساڑھی پہن کر شادی کی
نندی گرام میں یوم شہدا کے موقع پر شوبھندوادھیکاری راستے میں
ممتا کے آتے ہی فوج نے ترنمول اسٹیج کو کھولنا روک دیا
دھند کی وجہ سے موٹر سائیکل اور وین کی آمنے سامنے ٹکر ا گئی!2ہلاک
ایم پی کھگن مرمو اور شنکر گھوش حملے کی زد میں
نیپال کی بدامنی بنگال میں بھی پھیل گئی، لیا گیا بڑا فیصلہ