Bengal

جعلی نوٹوں کا کاروبار کرنے کے الزام میں شادی شدہ جوڑا گرفتار

جعلی نوٹوں کا کاروبار کرنے کے الزام میں شادی شدہ جوڑا گرفتار

کمر ہٹی : مغربی بنگال کے مختلف علاقوں سے اکثر جعلی نوٹوں کی برآمدگی کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں، جن کا مقصد بازار میں جعلی کرنسی پھیلانا ہوتا ہے۔ لیکن کیا کبھی جعلی نوٹ دکھا کر کاروبار میں سرمایہ کاری کا لالچ دیا گیا ہے؟ حقیقت میں ایسا ہی ہوا ہے، وہ بھی نیپال میں بیٹھ کر۔تاجروں کو کروڑوں روپے کے جعلی نوٹ دکھا کر کاروبار میں سرمایہ کاری کا جھانسہ دیا جاتا تھا۔ نیپال کے انٹیلی جنس حکام نے شمالی 24 پرگنہ کے کمارہاٹی سے تعلق رکھنے والے ایک شادی شدہ جوڑے کو گرفتار کیا ہے۔ ان کے قبضے سے نیپالی کرنسی میں تقریباً 70 کروڑ روپے کے جعلی نوٹ برآمد ہوئے ہیں۔ گرفتار جوڑے کی شناخت ارندم دھر اور دیپا دھر کے طور پر ہوئی ہے۔ دیپا کمارہاٹی میونسپلٹی کے وارڈ نمبر 21 کے تحت بیلگھریا شرت پلی علاقے کی ایک رہائشی عمارت میں رہتی تھیں۔ ان کی شادی جنوبی 24 پرگنہ کے سونارپور، ہرینابھی علاقے کے رہائشی ارندم دھر سے ہوئی تھی۔یہ میاں بیوی 2024 میں نیپال چلے گئے تھے، تاہم وہ اکثر کمارہاٹی میں اپنے فلیٹ پر آتے رہتے تھے۔ الزام ہے کہ ان کے علاقے کے بااثر افراد کے ساتھ گہرے مراسم تھے۔ ان کی رہائش گاہ پر اکثر پارٹیاں ہوتی تھیں، جہاں بڑے تاجروں اور مقامی لیڈروں کی آمد و رفت رہتی تھی۔دیپا اور ارندم کو نیپال پولیس کے انٹیلی جنس ڈیپارٹمنٹ نے 70 کروڑ روپے کے جعلی نوٹوں کے ساتھ گرفتار کیا ہے۔ لیکن یہ جوڑا ان جعلی نوٹوں کا کیا کرتا تھا؟ انٹیلی جنس حکام کے ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ یہ جوڑا مختلف تاجروں کو ویڈیو کالز کے ذریعے جعلی نوٹ دکھا کر کاروبار میں رقم لگانے کا لالچ دیتا تھا۔وہ مختلف کمپنیوں میں پیسہ لگا کر اسے دوگنا کرنے کا جھانسہ دیتے تھے۔ تفتیشی حکام نے گرفتار ملزمان کے قبضے سے لوہے کے ٹرنکوں میں بھری نقد رقم سمیت 12 موبائل فون اور پرتعیش گاڑیاں برآمد کی ہیں۔ نیپالی انٹیلی جنس نے ارندم دھر اور دیپا دھر سمیت کل سات افراد کو گرفتار کیا ہے، جن میں سے ایک نیپالی شہری بتایا جاتا ہے۔ تفتیشی افسران پوچھ گچھ کے ذریعے یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اتنی بڑی مقدار میں جعلی نوٹ کہاں سے آئے۔ کمارہاٹی کے اس جوڑے سے 70 کروڑ روپے کے جعلی نوٹوں کی برآمدگی پر سی پی آئی ایم نے حکمراں جماعت ترنمول کانگریس پر طنز کیا ہے۔ بائیں بازو کے رہنما سایندیپ مترا نے کہا: "کمارہاٹی میونسپلٹی کے لوگوں کی بدقسمتی بنتی جا رہی ہے کہ کبھی کسی کے بستر کے نیچے سے ہندوستانی کرنسی برآمد ہوتی ہے تو کبھی نیپال کی کرنسی مل رہی ہے۔ اب پولیس یہ پتہ لگائے کہ نیپال کی اس جعلی کرنسی کا منبع کیا ہے۔" مقامی بااثر لیڈروں کے ساتھ اس جوڑے کے تعلقات پر انہوں نے کہا: "وہ لوگ بین الاقوامیت پر یقین رکھتے ہیں، اسی لیے دبئی اور نیپال میں پیسے کی اسمگلنگ ہوتی ہے۔

Source: PC- tv9bangla

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments