قومی سطح پر بی جے پی مخالف اتحاد 'انڈیا' کا اجلاس آئندہ 8 جون کو ہوگا۔ اس اجلاس میں شرکت کے لیے دلی جائیں گی مامتا بنرجی اور ابھیشیک بنرجی۔ مغربی بنگال میں تری نامول کی شکست کے بعد اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اور سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو کولکاتا آ کر کالی گھاٹ میں مامتا سے ملے تھے۔ وہاں ابھیشیک بھی موجود تھے۔ انتخابی نتائج آنے کے بعد سے مامتا کئی بار کہہ چکی ہیں کہ 2029 کے لوک سبھا انتخابات کے لیے نئی لڑائی شروع ہوگی۔ متحدہ طور پر حزب اختلاف کا اتحاد 'انڈیا' وہ لڑائی لڑے گا۔ اجلاس کب ہوگا، اس پر دن حتمی نہیں ہو رہا تھا۔ پہلے طے تھا کہ 2 جون کو 'انڈیا' کا اجلاس ہوگا۔ لیکن متعدد رہنماوں کا اس دن دلی جانا ممکن نہیں تھا، انہوں نے کانگریس صدر ملیکارجن کھڑگے کو یہ بات بتائی۔ اس کے بعد 8 جون کو اجلاس کی تاریخ حتمی کر دی گئی۔ 30 مئی ہفتہ کو سونارپور میں ابھیشیک پر حملے کے واقعے پر حزب اختلاف کے اتحاد 'انڈیا' کے تقریباً تمام اولین صف کے رہنماوں نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کر کے اپنے ردعمل کا اظہار کیا تھا۔ اس فہرست میں کانگریس رہنما راہل گاندھی، کھڑگے، اکھلیش، عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کیجریوال، جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین وغیرہ شامل تھے۔ ان تمام پوسٹوں کو ری پوسٹ کر کے ابھیشیک نے شکریہ بھی ادا کیا تھا۔ اس سے ظاہر ہو رہا تھا کہ تری نامول قومی سطح پر بی جے پی مخالف جماعتوں کے ساتھ 'ہم آہنگی' رکھ کر چلنا چاہتا ہے۔ تاہم جس طرح تری نامول ٹوٹنے کا سامنا کر رہا ہے، اس سے 8 جون سے پہلے ہی اسمبلی کے پارلیمانی جماعت میں مساوات بدل سکتی ہے۔ اس سب کے بعد مامتا اور ابھیشیک دلی جا کر 'انڈیا' کے اجلاس میں کیا پیغام دیتے ہیں، اس طرف سیاسی حلقوں کی نظر ہوگی۔ اسی کے ساتھ ایک اور معاملہ دیکھنے کا ہے کہ دلی میں کانگریس قیادت کے ساتھ تری نامول کی ہم آہنگی مغربی بنگال کی سیاست میں کوئی نیا مساوات پیدا کرتی ہے یا نہیں۔ سونارپور میں ابھیشیک کے زخمی ہونے کے بعد اور تری نامول کے پارلیمانی جماعت میں شگاف پڑنے کے بعد، صوبائی کانگریس قیادت نے اس معنی میں کوئی 'ہمدردی' ظاہر نہیں کی۔
Source: PC-anandabazar
میتا نے ممتا بنرجی کی دی ہوئی ساڑھی پہن کر شادی کی
ممتا کے آتے ہی فوج نے ترنمول اسٹیج کو کھولنا روک دیا
نندی گرام میں یوم شہدا کے موقع پر شوبھندوادھیکاری راستے میں
دھند کی وجہ سے موٹر سائیکل اور وین کی آمنے سامنے ٹکر ا گئی!2ہلاک
ایم پی کھگن مرمو اور شنکر گھوش حملے کی زد میں
نیپال کی بدامنی بنگال میں بھی پھیل گئی، لیا گیا بڑا فیصلہ