گزشتہ سال کے آخر میں ترنمول سے نکالے جانے کے بعد اپنی پارٹی کا اعلان کیا تھا ہمایوں کبیر نے۔ ترنمول حکومت کی معزولی کا مطالبہ بھی کیا تھا۔ اگرچہ جتنا گرجے تھے اس کا معمولی سا کام کر کے دکھا سکے۔ لیکن اتفاق سے ترنمول اقتدار سے باہر ہو گئی۔ ممتا بنرجی کے ہاتھوں بنی پارٹی بھی بکھر کر رہ گئی ہے۔ اس صورتحال میں سربراہ کی طرف تعاون کا ہاتھ بڑھانے کی خواہش ظاہر کی ریگین گڑھ کے ایم ایل اے نے۔ کہا، "اگر سربراہ میرے پاس آتی ہیں، تو میں ریگین گڑھ سیٹ سے انہیں جتو لا کر اسمبلی بھیج دوں گا۔" تاہم اشارے میں طنز کرنا بھی نہیں چھوڑا۔ چھبیس کے انتخابات میں ترنمول کو شدید دھچکا لگا ہے۔ خود ممتا بنرجی اپنے گڑھ بھوانی پور میں نہیں جیت سکیں۔ نتیجتاً اب پارٹی کی سپریمو کے علاوہ وہ کسی عہدے پر نہیں ہیں۔ دوسری طرف ترنمول کی پارلیمانی پارٹی کی باگڈور بھی اب ان کے ہاتھ میں نہیں ہے۔ اس لیے ممتا بنرجی کے پاس عملی طور پر کوئی طاقت نہیں ہے۔ پارٹی کا نشان اور فنڈ کب تک ان کے پاس رہے گا، یہی بڑا سوال ہے۔ اس صورتحال میں پارٹی سربراہ کو 'گرو دکشنہ' دینے کی خواہش ظاہر کی ہمایوں کبیر نے۔ کیا کہا ایم ایل اے نے؟ ان کے بقول، وہ چاہیں تو ممتا بنرجی کو اسمبلی بھیج سکتے ہیں۔ ہمایوں نے آج کہا، "ممتا بنرجی اگر نندی گرام سے کھڑی ہوتی ہیں تو نہیں جیت سکتیں۔ لیکن اگر وہ چاہیں تو میں انہیں اسمبلی بھیج سکتا ہوں۔ اس کے لیے سربراہ کو میرے پاس آنا ہوگا۔ میں ریگین گڑھ سیٹ چھوڑ دوں گا۔ ان کی بات کوئی نہ سنے لیکن ریگین گڑھ میں ہمایوں ہی آخری بات ہے۔" ہمایوں کے بقول، فی الحال پارٹی سربراہ کی جو صورتحال ہے، اس سے وہ دکھی ہیں۔ اس لیے اپنی طاقت بھر سربراہ کے ساتھ کھڑے ہونے کے لیے تیار ہیں۔
Source: PC-sangbadpratidin
میتا نے ممتا بنرجی کی دی ہوئی ساڑھی پہن کر شادی کی
ممتا کے آتے ہی فوج نے ترنمول اسٹیج کو کھولنا روک دیا
نندی گرام میں یوم شہدا کے موقع پر شوبھندوادھیکاری راستے میں
دھند کی وجہ سے موٹر سائیکل اور وین کی آمنے سامنے ٹکر ا گئی!2ہلاک
ایم پی کھگن مرمو اور شنکر گھوش حملے کی زد میں
نیپال کی بدامنی بنگال میں بھی پھیل گئی، لیا گیا بڑا فیصلہ