حکومت کی تبدیلی کے ساتھ ہی محکمہ تعلیم میں استعفوں کا سیلاب آ گیا! ثانوی تعلیمی بورڈ کے صدر اور ایس ایس سی چیئرمین نے اپنے عہدوں سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے۔مغربی بنگال سیکنڈری ایجوکیشن بورڈ کے صدر رامانوج گنگوپادھیائے اور ایس ایس سی کے چیئرمین سدھارتھ مجمدار نے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ خبر ہے کہ ان کے استعفے اسکول ایجوکیشن سیکرٹری کو موصول ہو چکے ہیں۔سابقہ حکومت کے دور میں بھرتیوں میں مبینہ بدعنوانی، سپریم کورٹ تک پہنچنے والے مقدمات اور 26 ہزار اساتذہ و ملازمین کی ملازمتیں ختم ہونے جیسے واقعات نے محکمہ تعلیم کو شدید تنازعات میں گھیر رکھا تھا۔نئی حکومت (بی جے پی) نے حلف برداری کے بعد سے ہی بدعنوانی کے خلاف سخت موقف اختیار کیا ہے۔ پولیس اور بیوروکریسی میں تبدیلیوں کے بعد اب محکمہ تعلیم کے پورے ڈھانچے کو شفافیت برقرار رکھنے کے لیے تبدیل کیے جانے کی توقع ہے۔ ایس ایس سی کے علاقائی دفاتر کے کئی چیئرپرسنز نے بھی استعفیٰ دے دیا ہے، جبکہ اسکولوں اور کالجوں کی گورننگ باڈیز کی مدت بھی ختم ہو چکی ہے، جنہیں اب نئے قوانین کے تحت تشکیل دیا جا سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، محکمہ تعلیم کے دو اہم ستونوں کا بیک وقت مستعفی ہونا اس بات کی علامت ہے کہ ریاست کے تعلیمی نظام میں ایک بڑی تبدیلی اور تطہیر کا عمل شروع ہو چکا ہے۔
Source: PC-sangbadpratidin
میتا نے ممتا بنرجی کی دی ہوئی ساڑھی پہن کر شادی کی
نندی گرام میں یوم شہدا کے موقع پر شوبھندوادھیکاری راستے میں
ممتا کے آتے ہی فوج نے ترنمول اسٹیج کو کھولنا روک دیا
دھند کی وجہ سے موٹر سائیکل اور وین کی آمنے سامنے ٹکر ا گئی!2ہلاک
ایم پی کھگن مرمو اور شنکر گھوش حملے کی زد میں
نیپال کی بدامنی بنگال میں بھی پھیل گئی، لیا گیا بڑا فیصلہ