Bengal

ہوڑہ میں بی جے پی حامی کا قتل، ریاست کے مختلف حصوں میں ترنمول دفاتر میں توڑ پھوڑ کا الزام

ہوڑہ میں بی جے پی حامی کا قتل، ریاست کے مختلف حصوں میں ترنمول دفاتر میں توڑ پھوڑ کا الزام

مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے نتائج کے اعلان کے ساتھ ہی ریاست کے مختلف علاقوں میں امن و امان کی صورتحال خراب ہونے کی شکایات موصول ہو رہی ہیں۔ کولکتہ پولیس سوشل میڈیا پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے اور خبردار کیا ہے کہ کسی بھی قسم کی افواہ یا جھوٹی خبر پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ منگل کی صبح سے ہی بانکوڑہ کے مختلف مقامات سے بدامنی کی اطلاعات ملی ہیں۔ الزام ہے کہ بی جے پی نے ترنمول کانگریس کے دفاتر پر 'قبضہ' کرنا شروع کر دیا ہے۔ صرف قبضہ ہی نہیں، بلکہ ترنمول کے کئی دفاتر میں توڑ پھوڑ بھی کی گئی ہے۔ بانکوڑہ، جو طویل عرصے سے ترنمول کا گڑھ سمجھا جاتا تھا، وہاں اس بار بی جے پی نے تمام 12 اسمبلی نشستوں پر کلین سویپ کیا ہے۔ نتائج کے بعد سے ہی ترنمول کے دفاتر پر حملوں کی خبریں آ رہی ہیں۔ بانکوڑہ شہر کے متعدد کالجوں میں اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد نے طلبہ یونین کے کمروں پر قبضہ کر لیا ہے۔ منگل کی صبح سویرے بانکوڑہ کے پانچ باگا موڑ پر ترنمول کی ٹوٹو یونین کے دفتر میں توڑ پھوڑ کی کوشش کی گئی۔ اسی طرح گووند نگر بس اسٹینڈ کے علاقے میں واقع ترنمول کی لیبر یونین کے دفتر پر حملہ کیا گیا، وہاں سے ترنمول کا جھنڈا اتار کر بی جے پی کا جھنڈا لہرا دیا گیا۔ دوسری طرف، جنوبی 24 پرگنہ کا بھانگڑ علاقہ بھی کشیدہ ہے۔ ترنمول کا الزام ہے کہ بھانگڑ سے جیتنے والے آئی ایس ایف کے لیڈروں اور کارکنوں نے رات بھر مختلف علاقوں میں ہنگامہ آرائی کی۔ نیم کڑیہ گاوں میں انتخابی تشدد کی وجہ سے تناو پھیلا ہوا ہے۔ بیونتا میں ترنمول لیڈر کے گھر میں توڑ پھوڑ کا الزام بی جے پی پر لگایا گیا ہے۔ الزام ہے کہ ترنمول سے وابستگی کے 'جرم' میں ایک خاندان کے گھر میں گھس کر خواتین سمیت تمام افراد کو مارا پیٹا گیا۔

Source: PC-sangbadpratidin

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments