امتحانات کے تقریباً 76 دن بعد ہائیر سکنڈری کے نتائج جاری کر دیے گئے۔ جمعرات کی صبح ہائیر سکنڈری کونسل کی جانب سے نتائج کا اعلان کیا گیا۔ اس سال کل 6 لاکھ 26 ہزار سے زائد امیدواروں نے امتحان دیا تھا۔ کامیابی کا مجموعی تناسب 91.23 فیصد رہا۔ کامیابی کی شرح کے لحاظ سے مشرقی مدنی پور 94.19 فیصد کے ساتھ پہلے نمبر پر رہا۔ دوسرے نمبر پر ہاوڑہ اور تیسرے نمبر پر شمالی 24 پرگنہ رہا۔ ٹاپ ٹین (پہلے دس مقامات) میں 64 طلبائ نے جگہ بنائی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ نتائج صبح 11 بجے سے آن لائن دیکھے جا سکیں گے اور اسی وقت اسکولوں میں مارک شیٹس بھی بھیج دی جائیں گی۔ 2026 میں ہائیر سکنڈری امتحانات نئے قوانین کے تحت منعقد ہوئے ہیں۔ اس بار امتحانات سیمسٹر سسٹم کے تحت لیے گئے ہیں، جس کی وجہ سے ریویو سمیت کئی قوانین میں تبدیلیاں آئی ہیں۔ کونسل نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ اگر کسی طالب علم کو ہائیر سکنڈری کے چوتھے سیمسٹر کے نتائج پر کوئی شبہ یا اعتراض ہو، تو اسے دوبارہ امتحان میں بیٹھنے کا موقع دیا جائے گا۔ ایسی صورت میں اسے اس سال کی مارک شیٹ جمع کرانی ہوگی اور اگلے سال کے لیے نئے سرے سے تیاری کرنی ہوگی۔ واضح رہے کہ اب تک ہائیر سکنڈری کا امتحان سال میں ایک بار ہوتا تھا۔ یہ طریقہ کار 1978 میں شروع ہوا تھا اور گزشتہ سال آخری بار اس پرانے نظام کے تحت امتحان لیا گیا۔ اس سال سے سیمسٹر سسٹم نافذ کر دیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، جو طلباءگزشتہ سال ناکام رہے تھے یا ٹیسٹ امتحان پاس نہیں کر سکے تھے، انہیں بھی سیمسٹر سسٹم کے تحت امتحان دینے کا موقع ملا۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اس بار 15 ہزار 495 امیدواروں نے پرانے نظام کے تحت امتحان دیا۔
Source: PC-sangbadpratidin
میتا نے ممتا بنرجی کی دی ہوئی ساڑھی پہن کر شادی کی
نندی گرام میں یوم شہدا کے موقع پر شوبھندوادھیکاری راستے میں
دھند کی وجہ سے موٹر سائیکل اور وین کی آمنے سامنے ٹکر ا گئی!2ہلاک
ممتا کے آتے ہی فوج نے ترنمول اسٹیج کو کھولنا روک دیا
ایم پی کھگن مرمو اور شنکر گھوش حملے کی زد میں
نیپال کی بدامنی بنگال میں بھی پھیل گئی، لیا گیا بڑا فیصلہ