Bengal

سرکاری افسر بن کر بینک سے لاکھوں کا قرض،بردوان سے گروہ کا سرغنہ گرفتار

سرکاری افسر بن کر بینک سے لاکھوں کا قرض،بردوان سے گروہ کا سرغنہ گرفتار

بردوان7جنوری : کبھی محکمہ صحت، کبھی محکمہ آبپاشی تو کبھی محکمہ جنگلات کا افسر بن کر بینک جانا اور پھر فرضی 'سیلری سلپ' (تنخواہ کی پرچی) دکھا کر لاکھوں روپے کا قرض لینا۔ اس انوکھے طریقے سے چھ بار میں مجموعی طور پر 62 لاکھ روپے کا چونا لگانے والے گروہ کے سرغنہ کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ گرفتار ملزم کا نام علاء الدین شاہ (34 سال) ہے، جو بانکوڑا کے پاتراسائر کا رہنے والا ہے۔ کولکتہ پولیس کے ڈیٹیکٹیو ڈپارٹمنٹ (لال بازار) نے اسے منگل کو بردوان سے گرفتار کیا۔ پولیس کے مطابق علاءالدین اسی بینک میں 'سیلز ایگزیکٹو' کے طور پر کام کرتا تھا۔ اس عہدے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ خود ہی فرضی دستاویزات جمع کر کے قرض منظور کروانے کا کام کرتا تھا۔ یہ گروہ سرکاری محکموں کے فرضی شناختی کارڈ اور تنخواہ کی دستاویزات تیار کرتا تھا۔ ملزمان مختلف بینک شاخوں میں جا کر خود کو سرکاری افسر ظاہر کرتے اور 'پرسنل لون' حاصل کر لیتے تھے۔ اس کیس میں پہلے ہی تین افراد گرفتار ہو چکے ہیں۔ جولائی میں بانکوڑا سے آکاش دھیور کو گرفتار کیا گیا تھا جو فرضی کاغذات بناتا تھا۔ اس کے پاس سے 21 لاکھ روپے بھی برآمد ہوئے تھے۔ اس کے بعد رانا والمیکی اور سومیترا رائے کو بردوان اور ہاوڑہ سے گرفتار کیا گیا، جن کی نشاندہی پر اصل سرغنہ علائ الدین تک رسائی ممکن ہوئی۔پولیس اب اس بات کی تفتیش کر رہی ہے کہ کیا اس دھوکہ دہی میں بینک کے کچھ دیگر ملازمین بھی شامل تھے یا نہیں۔

Source: PC- anandabazar

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments