بہرام پور10مارچ : ایس آئی آر کے مسئلے پر ترنمول کے ساتھ ساتھ سی پی آئی ایم بھی الیکشن کمیشن پر دباو بڑھاتی جا رہی ہے۔ کچھ عرصہ قبل سی ای او کے دفتر کے سامنے مسلسل دھرنا دینے کے بعد، اب بائیں بازو کی جماعتوں نے بہرام پور میں ایس آئی آر کے خلاف ایک بڑا احتجاجی مارچ نکالا، جس کی قیادت محمد سلیم نے کی۔ دوسری جانب، کانگریس بھی اپنی طاقت دکھا رہی ہے۔ بہرام پور میں ایس آئی آر کے خلاف احتجاجی ریلی لے کر سابق صوبائی کانگریس صدر ادھیر رنجن چودھری میدان میں اترے اور ٹیکسٹائل موڑ پر ایک احتجاجی جلسہ بھی منعقد ہوا۔ اس دن صبح بہرام پور میں ضلع کانگریس کے دفتر سے شروع ہونے والی ریلی جب ٹیکسٹائل موڑ پہنچی، تو کانگریس رہنماو¿ں نے ایس آئی آر کے مسئلے پر مرکزی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ دوسری طرف، سی پی آئی ایم نے رابندر سدن کے سامنے کارکنوں کا اجلاس منعقد کیا جس کے بعد وہاں سے ریلی نکالی گئی۔ اس وقت تک کانگریس کی ریلی بھی سڑکوں پر آ چکی تھی جس کی قیادت ادھیر چودھری کر رہے تھے۔ایک موقع پر، گرجا موڑ کے علاقے میں کانگریس اور سی پی آئی ایم کی دونوں ریلیاں بالکل آمنے سامنے آگئی ہیں۔ یہاں ایک منفرد منظر دیکھنے کو ملا؛ کانگریس کے کئی نچلی سطح کے کارکن سی پی آئی ایم کے کارکنوں کو دیکھ کر فوراً ان سے ہاتھ ملانے پہنچ گئے۔ سیاسی حلقوں کا خیال ہے کہ اگرچہ مرکزی سطح پر اتحاد نہیں ہوا، لیکن اس طرح کے اقدامات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ دونوں جماعتوں کے نچلی سطح کے کارکن انتخابی میدان میں ایک ساتھ چلنا چاہتے ہیں۔واضح رہے کہ ایس آئی آر کے تحت اکیلے مرشد آباد میں ہی ابھی تک 11 لاکھ نام 'زیرِ غور' ہیں۔ ایسی صورتحال میں، ایک ہی شہر میں کانگریس اور سی پی آئی ایم کی بیک وقت علیحدہ ریلیاں انتخابات سے قبل ایک اہم پیغام دے رہی ہیں۔ دونوں ریلیوں میں شرکاءکی تعداد انتہائی قابلِ ذکر تھی۔
Source: PC- tv9bangla
میتا نے ممتا بنرجی کی دی ہوئی ساڑھی پہن کر شادی کی
ایم پی کھگن مرمو اور شنکر گھوش حملے کی زد میں
ممتا کے آتے ہی فوج نے ترنمول اسٹیج کو کھولنا روک دیا
نیپال کی بدامنی بنگال میں بھی پھیل گئی، لیا گیا بڑا فیصلہ
دکان کے سامنے سے پاکستانی نوٹ برآمد ہونے سے سنسنی
آئی پی ایل پر 40فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا