کولکاتہ، 5 جولائی:مغربی بنگال کے جنوبی 24 پرگنہ ضلع کے باروئی پور علاقے میں ایک 13 سالہ بچی کی مبینہ اجتماعی عصمت دری اور قتل کے بعد اتوار کو بڑے پیمانے پر تشدد بھڑک اٹھا۔مشتعل ہجوم نے اس جرم میں ملوث ہونے کے شبہے میں ایک نوجوان کو پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دیا، پولیس اہلکاروں پر حملہ کیا اور کئی گھنٹوں تک سڑک اور ریلوے ٹریفک کو معطل رکھا۔ پولیس کے مطابق مقتولہ کا جسدِ خاکی اس کے گھر کے قریب دھاپ دھاپی دوم گرام پنچایت کے تحت سوریہ پور علاقے میں ایک تالاب سے بوری میں بند حالت میں برآمد ہوا، جس کے بعد پورے علاقے میں سنسنی پھیل گئی۔ لاش ملنے کی اطلاع کے بعد مقامی لوگوں نے سڑکوں اور ریلوے پٹریوں پر دھرنا دیا، ٹائرجلائے ، گاڑیوں میں توڑ پھوڑ کی اور تمام ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے شدید احتجاج کیا۔ پولیس نے بتایا کہ بچی کے قتل کے سلسلے میں اب تک دو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے ، جبکہ ایک اور مشتبہ شخص کو مقامی لوگوں نے پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا۔ واقعے میں ملوث دیگر افراد کی شناخت کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔ متاثرہ خاندان کے مطابق بچی ہفتہ کی شام قریبی دکان سے کھانا خریدنے کے لیے گھر سے نکلی تھی لیکن واپس نہیں لوٹی۔ اہلِ خانہ کا الزام ہے کہ چار افراد اسے زبردستی اپنے ساتھ لے گئے تھے ۔ رات بھر تلاش کے بعد اتوار کی صبح اس کی لاش قریبی تالاب میں تیرتی ہوئی ملی۔لاش ملنے کی اطلاع پر سیکڑوں دیہاتی موقع پر جمع ہوگئے اور کئی گھنٹوں تک پولیس کو لاش اٹھانے نہیں دی۔ مظاہرین نے تقریباً پانچ گھنٹے تک سڑک بند رکھی اور سوریہ پور ریلوے اسٹیشن پر سیالدہ-نامخانہ ریلوے لائن کو بھی جام کر دیا، جس کے باعث تقریباً ایک گھنٹے تک ٹرینوں کی آمد و رفت متاثر رہی۔ بعد ازاں پولیس کی مداخلت کے بعد ریل خدمات بحال کر دی گئیں۔
Source: UNI NEWS
میتا نے ممتا بنرجی کی دی ہوئی ساڑھی پہن کر شادی کی
نندی گرام میں یوم شہدا کے موقع پر شوبھندوادھیکاری راستے میں
ممتا کے آتے ہی فوج نے ترنمول اسٹیج کو کھولنا روک دیا
دھند کی وجہ سے موٹر سائیکل اور وین کی آمنے سامنے ٹکر ا گئی!2ہلاک
ایم پی کھگن مرمو اور شنکر گھوش حملے کی زد میں
نیپال کی بدامنی بنگال میں بھی پھیل گئی، لیا گیا بڑا فیصلہ