ترنمول کانگریس کی عبرتناک شکست کے بعد پارٹی کے اندر 'قدیم بمقابلہ جدید'تنازعہ شدت اختیار کر گیا ہے۔ پارٹی کے پرانے اور وفادار کارکنوں نے اس شکست کا ذمہ دار ان رہنماوں کو ٹھہرایا ہے جنہیں وہ 'فیس بک کے انقلابی' قرار دے رہے ہیں۔ پرانے رہنماوں کا کہنا ہے کہ نئی نسل کے لیڈران صرف سوشل میڈیا پر فوٹو سیشن اور اسٹنٹ بازی تک محدود رہے۔ گلی محلوں میں جانے کے بجائے وہ گوگل میپ کے سہارے سیاست کر رہے تھے، جس کی وجہ سے وہ عوامی نبض ٹٹولنے میں ناکام رہے۔کارکنوں کا الزام ہے کہ پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط کرنے کے بجائے بیرونی ایجنسیوں اور فیس بک لیڈروں پر بھروسہ کیا گیا، جس نے زمینی سطح پر پارٹی کی جڑیں کھوکھلی کر دیں۔بزرگ رہنماوں کے مطابق، ان لوگوں کو آگے لایا گیا جو صرف چاپلوسی کرنا جانتے ہیں اور اقتدار کے نشے میں غرور دکھاتے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ یہی 'موسمی' لیڈر اب بی جے پی کی طرف جانے کی تیاری کر رہے ہیں۔طلبہ یونین کے انتخابات نہ ہونے کی وجہ سے نچلی سطح پر لڑاکا کارکنوں کی کمی محسوس کی گئی، جس کا اثر انتخابی نتائج پر پڑا۔پرانے سپاہیوں کا ماننا ہے کہ ممتا بنرجی کی جدوجہد کو پسِ پشت ڈال کر صرف ان کے ساتھ تصویریں کھنچوا کر اپنا مفاد حاصل کرنے والے لیڈروں کی وجہ سے ہی پارٹی کی یہ حالت ہوئی ہے۔
Source: PC-sangbadpratidin
میتا نے ممتا بنرجی کی دی ہوئی ساڑھی پہن کر شادی کی
نندی گرام میں یوم شہدا کے موقع پر شوبھندوادھیکاری راستے میں
دھند کی وجہ سے موٹر سائیکل اور وین کی آمنے سامنے ٹکر ا گئی!2ہلاک
ممتا کے آتے ہی فوج نے ترنمول اسٹیج کو کھولنا روک دیا
ایم پی کھگن مرمو اور شنکر گھوش حملے کی زد میں
نیپال کی بدامنی بنگال میں بھی پھیل گئی، لیا گیا بڑا فیصلہ