ہر اسمبلی حلقے کے لیے علیحدہ مبصرین مقرر کیے جا رہے ہیں۔ انتخابی نوٹیفکیشن جاری ہونے والے دن ہی مرکزی مبصرین کی ایک بڑی ٹیم ریاست پہنچ جائے گی۔ ذرائع کے مطابق، ہر اسمبلی حلقے کی حتمی نگرانی کے لیے کم از کم ایک مبصر موجود رہے گا۔ کاغذاتِ نامزدگی کا عمل بھی ان مرکزی مبصرین کی براہِ راست نگرانی میں ہوگا۔ الیکشن کمیشن نے مغربی بنگال سمیت ان تمام 5 ریاستوں کے لیے یہی فارمولا اپنایا ہے جہاں انتخابات ہونے والے ہیں۔ کمیشن اس مقصد کے لیے ملک بھر کے 1444 افسران کو تربیت دے رہا ہے۔ ماضی کے تجربات کی بنیاد پر کمیشن نے دیکھا ہے کہ بنگال کے کئی علاقوں سے کاغذاتِ نامزدگی کے مرحلے سے ہی شکایات اور بدامنی کی خبریں آنا شروع ہو جاتی ہیں۔ زبردستی کاغذاتِ نامزدگی واپس لینے سے لے کر سیاسی تشدد تک کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ گزشتہ اسمبلی انتخابات میں بھی اپوزیشن نے نامزدگی کے عمل کے دوران متعدد شکایات درج کرائی تھیں۔ اسی لیے اب قومی الیکشن کمیشن نے فیصلہ کیا ہے کہ جس دن نوٹیفکیشن جاری ہوگا، اسی دن سے تمام 294 حلقوں میں اسمبلی کی سطح پر الگ الگ مرکزی مبصرین تعینات کر دیے جائیں گے۔
Source: PC- tv9bangla
میتا نے ممتا بنرجی کی دی ہوئی ساڑھی پہن کر شادی کی
ایم پی کھگن مرمو اور شنکر گھوش حملے کی زد میں
ممتا کے آتے ہی فوج نے ترنمول اسٹیج کو کھولنا روک دیا
نیپال کی بدامنی بنگال میں بھی پھیل گئی، لیا گیا بڑا فیصلہ
دکان کے سامنے سے پاکستانی نوٹ برآمد ہونے سے سنسنی
آئی پی ایل پر 40فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا