Bengal

الیکشن کمیشن نے مزید 165 کاونٹنگ آبزرور اور 77 پولیس آبزرور کو تعینات کیا

الیکشن کمیشن نے مزید 165 کاونٹنگ آبزرور اور 77 پولیس آبزرور کو تعینات کیا

گنتی میں اب صرف ایک دن باقی ہے۔ الیکشن کمیشن نے 77 گنتی کے مراکز کے گرد سخت حفاظتی حصار قائم کر دیا ہے۔ اس بار گنتی کے عمل کو پرامن طریقے سے مکمل کرنے کے لیے کمیشن نے 165 کاونٹنگ آبزرور تعینات کیے ہیں۔ ان کاونٹنگ آبزرورز کی مدد کے لیے اضافی آبزرور بھی مقرر کیے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، کمیشن نے مزید 77 پولیس آبزرور تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ مراکز پر امن و امان برقرار رکھا جا سکے اور پورا عمل محفوظ، پرامن اور خوف سے پاک ماحول میں مکمل ہو۔ الیکشن کمیشن نے انتخابات کو پرامن اور منصفانہ بنانے کے لیے کئی اقدامات کیے تھے۔ پولنگ کا عمل چند متفرق واقعات کے علاوہ مجموعی طور پر پرامن رہا۔ اب باری گنتی کی ہے۔ تبدیلی یا واپسی! پورے ملک کی نظریں بنگال پر ہیں۔ گنتی کے دوران کسی بھی قسم کی بدامنی کو روکنے کے لیے کمیشن نے آئین کی دفعہ 324 اور متعلقہ قوانین کے تحت یہ تعیناتیاں کی ہیں۔ جن اسمبلی حلقوں میں ایک سے زیادہ کاونٹنگ ہالز ہیں، وہاں کاونٹنگ آبزرورز کی معاونت کے لیے اضافی آبزرور مقرر کیے گئے ہیں۔ دوسری جانب، پولیس آبزرورز گنتی کے مراکز کے باہر سیکورٹی اور امن و امان کی صورتحال کی نگرانی کریں گے۔ تاہم، کمیشن نے واضح کر دیا ہے کہ وہ گنتی کے دن کسی بھی صورت میں کاونٹنگ ہال کے اندر داخل نہیں ہو سکیں گے۔ علاوہ ازیں، کمیشن پہلے ہی بتا چکا ہے کہ صرف وہی لوگ گنتی کے مراکز میں داخل ہو سکیں گے جن کے پاس کیو آر کوڈ والے شناختی کارڈ ہوں گے۔ اب یہ بھی بتا دیا گیا ہے کہ مراکز کے اندر موبائل فون لے جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ قابل ذکر ہے کہ کمیشن نے کولکتہ پولیس کے تحت آنے والے تمام گنتی کے مراکز پر پہلے ہی دفعہ 163 نافذ کر دی ہے۔ اسٹرانگ روم کے 200 میٹر کے دائرے میں ہجوم جمع ہونے پر پابندی عائد ہے اور 5 یا اس سے زیادہ افراد کے اکٹھے ہونے پر ممانعت ہے۔ یہ احکامات گنتی سے پہلے تناو، احتجاج یا کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے جاری کیے گئے ہیں۔ کمیشن نے انتباہ دیا ہے کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

Source: PC-sangbadpratidin

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments