الیکشن کمیشن نے آٹھویں سپلیمنٹری لسٹ جاری کر دی ہے، جس میں مزید 3 لاکھ ووٹرز کے ناموں کا تصفیہ کیا گیا ہے۔ کمیشن کے مطابق اب تک مجموعی طور پر 52 لاکھ سے زائد زیر التوائ ووٹرز کے ناموں کا فیصلہ کیا جا چکا ہے، تاہم اس فہرست میں کتنے نام شامل کیے گئے یا نکالے گئے، اس کی واضح تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔ ووٹر لسٹ کی خصوصی ترمیمی مہم کی حتمی فہرست کے بعد یہ معلوم ہوا تھا کہ 60 لاکھ 6 ہزار 675 نام زیر التواء تھے۔ سپریم کورٹ کی ہدایت پر جوڈیشل افسران ان ناموں کی جانچ اور تصفیہ کر رہے ہیں۔ آٹھویں فہرست کے اجرا کے بعد اب صرف 7 لاکھ سے کچھ زیادہ نام باقی رہ گئے ہیں۔ کمیشن کو امید ہے کہ اگر کام کی رفتار یہی رہی تو 7 اپریل تک تمام ناموں کا تصفیہ مکمل ہو جائے گا۔ سپلیمنٹری لسٹ سے جن لوگوں کے نام خارج ہوں گے، وہ خصوصی ٹربیونل میں اپیل کر سکیں گے، جس کا عمل پہلے ہی شروع ہو چکا ہے۔ دوسری جانب، ووٹر لسٹ سے بڑی تعداد میں نام نکالے جانے پر ریاست کے مختلف حصوں میں عوامی غم و غصہ دیکھا جا رہا ہے اور لوگ سڑکوں پر نکل کر احتجاج کر رہے ہیں۔ مالدہ کے واقعے نے سابق ججوں کی سیکورٹی پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ واضح رہے کہ ریاست کی 52 نشستوں پر پہلے مرحلے کی پولنگ 23 اپریل کو ہوگی، جس کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی آخری تاریخ 6 اپریل ہے۔ اس تاریخ تک ووٹر لسٹ میں موجود تمام افراد ووٹ ڈالنے کے اہل ہوں گے۔ وہیں بقیہ 142 نشستوں پر دوسرے مرحلے کی پولنگ 29 اپریل کو ہوگی، جہاں نامزدگی کی آخری تاریخ 9 اپریل ہے۔ مجموعی طور پر 9 اپریل کو یہ واضح ہو جائے گا کہ ایس آئی آر کے بعد ریاست میں ووٹرز کی کل تعداد کتنی ہے۔
Source: PC-sangbadpratidin
میتا نے ممتا بنرجی کی دی ہوئی ساڑھی پہن کر شادی کی
نندی گرام میں یوم شہدا کے موقع پر شوبھندوادھیکاری راستے میں
دھند کی وجہ سے موٹر سائیکل اور وین کی آمنے سامنے ٹکر ا گئی!2ہلاک
ایم پی کھگن مرمو اور شنکر گھوش حملے کی زد میں
ممتا کے آتے ہی فوج نے ترنمول اسٹیج کو کھولنا روک دیا
نیپال کی بدامنی بنگال میں بھی پھیل گئی، لیا گیا بڑا فیصلہ