مرشد آباد 5فروری :دوسری ریاست میں ایک بار پھر پردیسی مزدور کی پراسرار موت کا واقعہ سامنے آیا ہے۔ متوفی کا نام عین الحق شیخ ہے، جن کا انتقال کیرالہ کے ایک اسپتال میں دورانِ علاج ہوا۔ وہ چند ماہ قبل ہی کام کی تلاش میں وہاں گئے تھے۔ مرشد آباد کے ساگر پاڑہ کے خیراماری علاقے میں جیسے ہی ان کی موت کی خبر پہنچی، پورے خاندان میں کہرام مچ گیا۔ عین الحق گھر کے واحد کمانے والے رکن تھے۔ عین الحق شیخ کے پسماندگان میں ان کی اہلیہ، ایک نابالغ بیٹا اور دو بیٹیاں ہیں۔ وہ پانچ ماہ قبل زیادہ آمدنی کی امید میں کیرالہ کے پریم بابھور نامی علاقے میں گئے تھے اور وہاں کرائے کے مکان میں رہائش پذیر تھے۔ وہ تقریباً ایک ہفتہ قبل اچانک بیمار ہو گئے تھے۔ اسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد گزشتہ منگل کو ان کی حالت بگڑی اور وہ دم توڑ گئے۔ خاندان اس قدر غریب ہے کہ کیرالہ سے لاش واپس لانے کے اخراجات اٹھانا ان کے لیے ناممکن تھا۔ نوبت یہاں تک آپہنچی کہ گاوں والوں نے سڑک پر کھڑے ہو کر چندہ جمع کرنا شروع کیا تاکہ میت کو واپس لایا جا سکے۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی جلنگی کے ایم ایل اے عبدالرزاق نے گرام پنچایت کے پردھان متھن بسواس کو متاثرہ خاندان کے گھر بھیجا۔ انہوں نے اہل خانہ سے ملاقات کی اور ہر ممکن سرکاری تعاون کا یقین دلایا۔قابلِ ذکر ہے کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران دوسری ریاستوں میں مغربی بنگال کے متعدد پردیسی مزدوروں کی ہلاکت کے واقعات پیش آچکے ہیں۔ بعض صورتوں میں بنگالی بولنے پر انہیں 'بنگلہ دیشی' قرار دے کر تشدد کا نشانہ بنانے کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔ انہی پریشان کن حالات کے درمیان مرشد آباد کے اس مزدور کی موت نے ایک بار پھر پردیسی مزدوروں کے تحفظ اور ان کی مجبوریوں کو اجاگر کر دیا ہے۔
Source: PC- sangbadpratidin
میتا نے ممتا بنرجی کی دی ہوئی ساڑھی پہن کر شادی کی
ایم پی کھگن مرمو اور شنکر گھوش حملے کی زد میں
ممتا کے آتے ہی فوج نے ترنمول اسٹیج کو کھولنا روک دیا
نیپال کی بدامنی بنگال میں بھی پھیل گئی، لیا گیا بڑا فیصلہ
دکان کے سامنے سے پاکستانی نوٹ برآمد ہونے سے سنسنی
آئی پی ایل پر 40فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا