Bengal

دوسرے مرحلے کی ووٹنگ مکمل ہونے پر بی جے پی کیمپ میں تشویش کی لہر

دوسرے مرحلے کی ووٹنگ مکمل ہونے پر بی جے پی کیمپ میں تشویش کی لہر

مغربی بنگال کے دوسرے مرحلے کی 142 نشستوں پر ووٹنگ مکمل ہونے کے بعد بی جے پی کیمپ میں تشویش اور غور و خوض کا دور شروع ہو گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس بار بی جے پی ترنمول کانگریس کا مقابلہ 'آنکھوں میں آنکھیں' ڈال کر کر سکی ہے؟جن 142 نشستوں پر بدھ کو ووٹنگ ہوئی، وہ روایتی طور پر ترنمول کا گڑھ سمجھی جاتی ہیں۔ 2021 کے اسمبلی انتخابات میں ان اضلاع (کولکتہ، جنوبی و شمالی 24 پرگنہ، ہوڑہ، ہگلی، نادیہ اور مشرقی بردوان) کی 142 نشستوں میں سے:مشرقی بردوان، ہوڑہ، کولکتہ اور جنوبی 24 پرگنہ میں بی جے پی کا کھاتہ بھی نہیں کھلا تھا۔ رپورٹس کے مطابق، پہلے مرحلے کی طرح دوسرے مرحلے میں بی جے پی کیمپ میں وہ جوش و خروش نظر نہیں آیا۔ شبھیندو ادھیکاری اور ارجن سنگھ جیسے چند لیڈروں کو چھوڑ کر، زیادہ تر امیدوار زمین پر اتنے فعال نظر نہیں آئے جتنا کہ توقع کی جا رہی تھی۔ یہاں تک کہ مرکزی قیادت کی جانب سے بار بار فون آنے کے باوجود، ریاستی لیڈروں کے بیانات میں پہلے مرحلے جیسی 'کامیابی کی گھنٹی' نہیں سنائی دی۔ ان 142 حلقوں میں سے کئی جگہوں پر اقلیتی ووٹرز فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔ ساتھ ہی، غیر بنگالی ہندو ووٹوں میں بی جے پی کی کتنی رسائی ہوئی، یہ ابھی سوالیہ نشان ہے۔بی جے پی کو امید تھی کہ متوا برادری ان کے ساتھ ہے، لیکن اب یہ مانا جا رہا ہے کہ اس ووٹ بینک کا ایک بڑا حصہ ترنمول کی طرف مڑ سکتا ہے۔ یہ خدشہ بھی ہے کہ جو ووٹ پچھلی بار 'رام' (بی جے پی) کی طرف گئے تھے، وہ اس بار واپس 'بام' (لیفٹ) کی طرف جا سکتے ہیں، جس کا براہ راست نقصان بی جے پی کو ہوگا۔

Source: PC-anandabazar

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments