دیگھا کے جگن ناتھ مندر نے مغربی بنگال، بالخصوص مشرقی مدنی پور کی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ کیا یہ مندر انتخابی مساوات کو بدلنے میں کامیاب ہوگا؟ سیاسی حلقوں میں اس کا موازنہ ایودھیا کے رام مندر سے کیا جا رہا ہے۔ 2024 کے لوک سبھا انتخابات سے قبل ایودھیا میں رام مندر کی افتتاحی تقریب کے باوجود بی جے پی کو اتر پردیش میں وہ نتائج نہیں ملے جس کی اسے توقع تھی۔ بی جے پی فیض آباد لوک سبھا سیٹ (جس میں ایودھیا شامل ہے) ہار گئی تھی، اور اسے مرکز میں حکومت بنانے کے لیے حلیفوں پر انحصار کرنا پڑا۔ممتا بنرجی کی حکومت نے دیگھا میں اڑیسہ کے پوری کی طرز پر ایک عظیم الشان جگن ناتھ مندر تعمیر کروایا ہے۔ ترنمول کانگریس اسے اپنی ایک بڑی کامیابی اور عقیدت کے مرکز کے طور پر پیش کر رہی ہے، تاکہ ہندو ووٹوں کی تقسیم کو روکا جا سکے۔بی جے پی جہاں رام مندر کے نام پر ووٹ مانگتی رہی ہے، وہیں ترنمول نے جگن ناتھ مندر کے ذریعے ایک جوابی 'نرم ہندوتوا' کی حکمت عملی اپنائی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا مشرقی مدنی پور کے ووٹرز اس مندر کی تعمیر کو ووٹ میں تبدیل کریں گے؟ مقامی سطح پر یہ مندر نہ صرف سیاحت کو فروغ دے رہا ہے بلکہ یہ ایک بڑا سیاسی ایشو بھی بن چکا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جہاں رام مندر یوپی میں بی جے پی کو یکطرفہ جیت نہیں دلا سکا، کیا وہاں دیگھا کا جگن ناتھ مندر ترنمول کے لیے گیم چینجر ثابت ہوگا؟فی الحال، مشرقی مدنی پور کے انتخابی میدان میں "رام مندر بمقابلہ جگن ناتھ مندر" کی یہ بحث زوروں پر ہے اور سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ ووٹرز کسے ترجیح دیتے ہیں۔
Source: PC-anandabazar
میتا نے ممتا بنرجی کی دی ہوئی ساڑھی پہن کر شادی کی
دھند کی وجہ سے موٹر سائیکل اور وین کی آمنے سامنے ٹکر ا گئی!2ہلاک
نندی گرام میں یوم شہدا کے موقع پر شوبھندوادھیکاری راستے میں
ایم پی کھگن مرمو اور شنکر گھوش حملے کی زد میں
ممتا کے آتے ہی فوج نے ترنمول اسٹیج کو کھولنا روک دیا
نیپال کی بدامنی بنگال میں بھی پھیل گئی، لیا گیا بڑا فیصلہ