بیربھوم کے محمد بازار بلاک میں دیوچا-پانچامی مجوزہ کوئلہ بلاک کے داخلی راستے پر بنے اس کثیر تشہیر یافتہ بڑے گیٹ سے راتوں رات سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی تصویر اور پی ڈی سی ایل کے تشہیری بینرز ہٹا دیے گئے ہیں۔ سال 2026 میں ریاست میں ہونے والی سیاسی تبدیلی کے بعد، مبصرین اس واقعے کو سبکدوش ہونے والی ترنمول حکومت کے 'ڈریم پروجیکٹ' کی ناکامی اور سیاسی حقیقت کی علامت کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔چند ماہ قبل تک جس گیٹ پر ممتا بنرجی کی تصویر چمکتی تھی اور بڑے بڑے حروف میں لکھا ہوتا تھا 'دنیا کے سب سے بڑے کوئلہ بلاکس میں سے ایک میں آپ کا استقبال ہے' یا 'ترقی کے پھول کھلے، سارا اندھیرا مٹا'— آج وہ گیٹ بالکل سنسان اور بغیر کسی تصویر کے کھڑا ہے۔ ترنمول کے دورِ حکومت میں دیوچا-پانچامی پروجیکٹ کو ریاست کی معاشی تقدیر بدلنے والے ایک بڑے ہتھیار کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ دعویٰ کیا گیا تھا کہ کوئلے کے اس ذخیرے سے لاکھوں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور بیربھوم کی معیشت بدل جائے گی۔ لیکن موجودہ صورتحال بالکل مختلف کہانی بیان کرتی ہے۔پروجیکٹ کے اعلان کے بعد اتنا وقت گزر جانے کے باوجود حقیقت میں وہاں سے ایک کلو کوئلہ بھی نہیں نکالا جا سکا۔ اس کے برعکس، اس علاقے میں صرف پتھر نکالنے کا کام ہی ہوتا رہا۔ نئے سرے سے پتھر نکالنے کے لیے کئی بار عالمی ٹینڈر (Global Tender) بلائے گئے، لیکن کسی بھی صنعتی ادارے یا کمپنی نے اس پروجیکٹ میں سرمایہ کاری کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی۔ زمین کے نیچے پتھروں کی ایک بھاری تہہ کو عبور کرنے کے بعد ہی کوئلے کی کان تک پہنچنا ممکن ہے، جو کہ انتہائی مہنگا اور وقت طلب عمل ہے۔گیٹ سے وزیر اعلیٰ کی تصویر اور بینرز ہٹنے کے بعد اب نئی حکمران جماعت بی جے پی نے ترنمول کانگریس پر شدید حملے شروع کر دیے ہیں۔"جہاں کوئلہ زمین کے تقریباً 800 میٹر سے 2 کلومیٹر کی گہرائی میں ہے، وہاں اوپر موجود پتھروں کی بھاری تہہ کو ہٹا کر کوئلہ نکالنے میں بہت زیادہ وقت اور پیسہ لگے گا۔ مزید یہ کہ وہاں موجود کوئلے کا جو معیار ہے، وہ معاشی طور پر زیادہ فائدہ مند بھی نہیں ہے۔ اس لیے اس پروجیکٹ کے نام پر عوام کو صرف دن میں خواب دکھائے گئے۔ صرف تشہیر ہی سب کچھ تھی، کام کچھ نہیں ہوا۔مقامی قبائلیوں اور باشندوں کے ایک طبقے کے مطابق، زمین اور روزگار کے بڑے بڑے خواب دکھا کر جس طرح سیاسی تشہیر کی گئی تھی، حقیقت میں اس کا کچھ بھی فائدہ نہیں ملا۔ داخلی راستے پر کھڑا یہ سنسان گیٹ اب ایک خاموش علامت بن چکا ہے— جو یاد دلاتا ہے کہ جس خواب نے کبھی روشنی بکھری تھی، آج سیاسی تبدیلی کے ساتھ ہی اس کا رنگ پوری طرح پھیکا پڑ چکا ہے۔
Source: PC-anandabazar
میتا نے ممتا بنرجی کی دی ہوئی ساڑھی پہن کر شادی کی
نندی گرام میں یوم شہدا کے موقع پر شوبھندوادھیکاری راستے میں
ممتا کے آتے ہی فوج نے ترنمول اسٹیج کو کھولنا روک دیا
دھند کی وجہ سے موٹر سائیکل اور وین کی آمنے سامنے ٹکر ا گئی!2ہلاک
ایم پی کھگن مرمو اور شنکر گھوش حملے کی زد میں
نیپال کی بدامنی بنگال میں بھی پھیل گئی، لیا گیا بڑا فیصلہ