کولکاتا7مارچ :دارجلنگ اور شمالی بنگال کی چائے کی صنعت کا یہ بحران واقعی تشویشناک ہے۔ چھ ماہ کی طویل خشک سالی اور کیڑوں کے حملے نے مل کر ایک "دوہری مار" کی صورتحال پیدا کر دی ہے۔ آپ کی فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر موجودہ بحران کے اہم پہلو ذیل میں مختصراً پیش ہیں۔گزشتہ ستمبر سے مناسب بارش نہ ہونے کی وجہ سے مٹی کی نمی ختم ہو چکی ہے۔ چائے کے پودوں کی نشوونما کے لیے ضروری نمی نہ ہونے کی وجہ سے پتے مرجھا رہے ہیں۔بارش کی کمی اور خشک موسم کی وجہ سے ریڈ اسپائیڈر، لوپر اور چائے کے مچھر جیسے کیڑوں کی بھرمار ہو گئی ہے۔ یہ کیڑے کچے پتوں کا رس چوس کر فصل کو تباہ کر رہے ہیں۔ مصنوعی آبپاشی کے لیے ایندھن کے بھاری اخراجات چھوٹے چائے کاشتکاروں کے لیے مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ کیڑوں کے خاتمے کے لیے ادویات کا خرچہ بھی بڑھتا جا رہا ہے۔
Source: PC- sangbadpratidin
میتا نے ممتا بنرجی کی دی ہوئی ساڑھی پہن کر شادی کی
ایم پی کھگن مرمو اور شنکر گھوش حملے کی زد میں
ممتا کے آتے ہی فوج نے ترنمول اسٹیج کو کھولنا روک دیا
نیپال کی بدامنی بنگال میں بھی پھیل گئی، لیا گیا بڑا فیصلہ
دکان کے سامنے سے پاکستانی نوٹ برآمد ہونے سے سنسنی
آئی پی ایل پر 40فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا