یہ مغربی بنگال کے سرکاری ملازمین کے بقایا مہنگائی بھتے کے حوالے سے ایک انتہائی اہم قانونی پیش رفت ہے۔ سپریم کورٹ کے واضح حکم کے باوجود عمل درآمد نہ ہونے پر ملازمین کی تنظیم 'سنگرامی جوتھو منچ' نے اب توہینِ عدالت کا راستہ اختیار کیا ہے۔سپریم کورٹ نے ریاست کو حکم دیا تھا کہ وہ پرانے بقایا ڈی اے کا 25 فیصد فوری طور پر ادا کرے۔ عدالت نے واضح کیا تھا کہ ڈی اے سرکاری ملازمین کا قانونی حق بقیہ رقم کی ادائیگی کے طریقہ کار کو طے کرنے کے لیے سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت دی گئی تھی۔عدالت کے مطابق، بقایا رقم کی پہلی قسط ریاست کو 31 مارچ تک ادا کرنی ہے۔'سنگرامی جوتھو منچ' کے کنوینر بھاسکر گھوش کا الزام ہے کہ ریاستی حکومت جان بوجھ کر عدالتی حکم کی خلاف ورزی کر رہی ہے اور ادائیگی کے لیے کوئی تیاری یا نیت نظر نہیں آ رہی۔ تنظیم نے پہلے چیف سکریٹری اور فنانس سکریٹری کو توہینِ عدالت کا نوٹس بھیجا تھا، لیکن ان کی طرف سے کوئی جواب نہیں ملا۔الزام ہے کہ سپریم کورٹ کی بنائی گئی کمیٹی نے بات چیت کے لیے حکومت سے رابطہ کیا، لیکن ریاست کی جانب سے اب تک وقت نہیں دیا گیا۔چونکہ 25 فیصد بقایا جات کی ادائیگی کے لیے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا، اس لیے ملازمین کی تنظیم نے سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت (Contempt of Court) کی عرضی دائر کر دی ہے۔ اب گیند دوبارہ سپریم کورٹ کے پالے میں ہے کہ وہ ریاست کی اس خاموشی پر کیا سخت رخ اختیار کرتی ہے۔
Source: PC- anandabazar
میتا نے ممتا بنرجی کی دی ہوئی ساڑھی پہن کر شادی کی
ایم پی کھگن مرمو اور شنکر گھوش حملے کی زد میں
ممتا کے آتے ہی فوج نے ترنمول اسٹیج کو کھولنا روک دیا
نیپال کی بدامنی بنگال میں بھی پھیل گئی، لیا گیا بڑا فیصلہ
دکان کے سامنے سے پاکستانی نوٹ برآمد ہونے سے سنسنی
آئی پی ایل پر 40فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا