بائیں بازو کی جماعتوں نے 'یووا ساتھی' اسکیم کے آغاز سے ہی بی جے پی کی طرح ترنمول حکومت کی شدید مخالفت کی تھی، لیکن اب کاٹوا میں ایک حیران کن تصویر سامنے آئی ہے جہاں بائیں بازو کے کارکنان باقاعدہ کیمپ لگا کر عوام کے فارم بھر رہے ہیں۔کاٹوا بلاک نمبر 2 کے آفس کے آرام گاہ میں گزشتہ تین دنوں سے بائیں بازو کے رہنما اور کارکنان سرکاری اسکیم کے فارم بھرنے کے لیے کیمپ لگائے بیٹھے ہیں۔ اب تک ایک ہزار سے زائد درخواستیں بھری جا چکی ہیں، جن میں بے روزگار نوجوانوں کے ساتھ ساتھ بے زمین کھیت مزدور بھی بڑی تعداد میں شامل ہیں۔سی پی آئی ایم کے ایریا کمیٹی ممبر مادھائی گھوش اور مقامی لیڈر سومدیو منڈل کا کہنا ہے کہ:ان سرکاری اسکیموں کا پیسہ عوام کا حق ہے اور انہیں ملنا چاہیے۔باہر فارم بھرنے کے لیے لوگوں سے پیسے لیے جا سکتے ہیں یا انہیں پریشان کیا جا سکتا ہے، اس لیے وہ رضاکارانہ طور پر لوگوں کی مدد کر رہے ہیں۔اسکیم کی مخالفت اپنی جگہ ہے، لیکن غریب عوام کو ان کا حق دلوانا بھی ضروری ہے۔پنچایت سمیتی کے نائب صدر راجیو چٹوپادھیائے نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ سی پی ایم کا یہ عمل خود ثابت کرتا ہے کہ ممتا بنرجی کی اسکیمیں ہر طبقے کے لیے فائدہ مند ہیں اور بائیں بازو والے بھی اسے تسلیم کرنے پر مجبور ہیں۔ بی جے پی لیڈر سیما بھٹاچاریہ نے اسے 'نورا کشتی' قرار دیتے ہوئے کہا کہ ترنمول اور سی پی ایم ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ "بنگال میں یہ آپس میں لڑنے کا ناٹک کرتے ہیں اور دہلی میں دوستی کرتے ہیں، یہ سب محض عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔"
Source: PC- tv9bangla
میتا نے ممتا بنرجی کی دی ہوئی ساڑھی پہن کر شادی کی
ایم پی کھگن مرمو اور شنکر گھوش حملے کی زد میں
ممتا کے آتے ہی فوج نے ترنمول اسٹیج کو کھولنا روک دیا
نیپال کی بدامنی بنگال میں بھی پھیل گئی، لیا گیا بڑا فیصلہ
دکان کے سامنے سے پاکستانی نوٹ برآمد ہونے سے سنسنی
آئی پی ایل پر 40فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا