مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے پیش نظر کانگریس کے تمام 294 نشستوں پر اکیلے لڑنے کے اعلان کے بعد سی پی آئی (ایم) کے لیے امیدواروں کے انتخاب کا عمل تیز ہو گیا ہے۔ تاہم، پارٹی کے اندر اس بات پر شدید بحث چھڑ گئی ہے کہ 2021 کے انتخابات میں بری طرح شکست کھانے والے 'ہیوی ویٹ' رہنما اب اپنی پرانی نشستوں سے دوبارہ انتخاب لڑنے کے حق میں نہیں ہیں۔ 2021 میں ممتا بنرجی کی 'کھیلا ہوبے' لہر میں سی پی آئی (ایم) کے کئی بڑے ناموں کی ضمانتیں ضبط ہو گئی تھیں۔ اب میناکشی مکھوپادھیائے، شتروپ گھوش، سریجن بھٹاچاریہ اور سیان بنرجی جیسے 'نئی نسل' کے رہنماؤں پر الزام ہے کہ وہ شکست کے بعد اپنے انتخابی حلقوں میں واپس نہیں گئے۔ کارکنوں کی ناراضگی: نچلی سطح کے پارٹی کارکنوں کا الزام ہے کہ یہ رہنما صرف سوشل میڈیا (فیس بک، ایکس) پر سرگرم رہتے ہیں اور عام لوگوں کے مسائل کے لیے سڑکوں پر نہیں اترتے۔ کارکنوں کا کہنا ہے کہ وہ 'مہاجر امیدواروں' (Migrant Candidates) کے بجائے ایسے لوگ چاہتے ہیں جو سارا سال ان کے ساتھ رہیں۔ ذرائع کے مطابق، محمد سلیم چندی تلہ کے بجائے ریجی نگر یا بھرت پور سے، شتروپ گھوش کسبہ کے بجائے دم دم اتر سے، اور میناکشی مکھوپادھیائے نندی گرام کے بجائے اتر پاڑہ سے الیکشن لڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسی طرح دیپسیتا دھر بالی کے بجائے ڈومجور اور سریجن بھٹاچاریہ سنگور کے بجائے کسبہ سے امیدوار بننا چاہتے ہیں۔ کارکنوں کی شکایات کے باوجود محمد سلیم کی قیادت میں پارٹی نے ان چہروں کو مزید 'پرموشن' دیا ہے، جس کی وجہ سے کئی پرانے کامریڈز اور کارکنوں میں شدید غصہ پایا جا رہا ہے۔ سی پی آئی (ایم) جو کبھی 34 سال اقتدار میں رہی، اب اپنے ہی 'ہیوی ویٹ' لیڈروں کے انتخابی حلقے بدلنے کی خواہش اور کارکنوں کی بغاوت کے باعث مشکل صورتحال کا شکار نظر آتی ہے۔
Source: PC- sangbadpratidin
میتا نے ممتا بنرجی کی دی ہوئی ساڑھی پہن کر شادی کی
ایم پی کھگن مرمو اور شنکر گھوش حملے کی زد میں
ممتا کے آتے ہی فوج نے ترنمول اسٹیج کو کھولنا روک دیا
نیپال کی بدامنی بنگال میں بھی پھیل گئی، لیا گیا بڑا فیصلہ
دکان کے سامنے سے پاکستانی نوٹ برآمد ہونے سے سنسنی
آئی پی ایل پر 40فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا