پولیس کا ’برموڈا‘ ماڈل اب فلتہ میں بھی۔ ایک زمانے میں فلتہ کی ’پشپا‘ اب بالکل بھیگی بلی بن گئی ہے! نیپال تک بھاگ کر بھی پولیس کے ہاتھوں پکڑے جانے کے بعد ان کی تمام دھمکیاں ختم ہو گئی ہیں۔ جمعرات کو اس جہانگیر خان کو بنیان-برموڈا پہنا کر فلتہ میں گھمایا پولیس نے۔ اس سے انہیں ذرا بھی شرم نہیں آئی! بالکل سر اٹھا کر بے پرواہ انداز میں چلے وہ جس نے الیکشن سے آخری وقت میں اپنا نام واپس لیا تھا۔ جمعرات کی دوپہر فلتہ کے سہاراہاٹ سے جہانگیر خان کو برموڈا اور بنیان پہنا کر علاقے میں گھمایا پولیس نے۔ ساتھ میں مرکزی فورس کے جوان بھی تھے۔ مقامی باشندوں اور راہگیروں نے یہ منظر دیکھ کر پہلے تو کافی حیرانی کا اظہار کیا۔ اپنی آنکھوں سے دیکھ کر پہلے اس زبردست ترنمول لیڈر کو پہچان ہی نہیں سکے۔ بعد میں ہوش آنے پر باشندے حیران رہ گئے۔ اس دن کے اس ظالم جہانگیر خان کا آخر کار ایسا حال ہوگا، یہ اپنی آنکھوں سے دیکھ کر بہت سے لوگوں نے خوشی سے تالیاں بھی بجائیں۔ کسی کو کہتے سنا گیا، "اسے مارتے مارتے سڑک پر لے جانا چاہیے۔" تاہم جہانگیر بخوبی سر اٹھا کر پوری سڑک پر چلتا رہا۔ واضح رہے کہ ڈائمنڈ ہاربر کے ایڈیشنل چیف جیڈیشل مجسٹریٹ عدالت کے حکم پر 2021 کے انتخابات کے بعد کے دہشت گردی کے ایک مقدمے میں جہانگیر خان کو پانچ دن کی پولیس حراست میں دیا گیا ہے۔ 12 جون، جمعہ کو یہ مدت ختم ہوگی۔ اسی دوران انہیں علاقے میں گھمایا پولیس نے۔ ملزم ترنمول رہنماوں کو اس طرح مختلف جگہوں پر گھمایا جا رہا ہے۔ بدلتے ہوئے بنگال میں پولیس کی یہ تھراپی جہاں انہیں لوگوں کے سامنے شرمندہ کر رہی ہے، وہیں عوام کو یہ پیغام بھی پہنچایا جا رہا ہے کہ اب یہ لوگ خوف سے آزاد ہیں۔ تاہم آج ’پشپا‘ کو گھمانے کے پیچھے پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ تحقیقات کی ضرورت کے لیے کچھ مخصوص جگہوں پر جہانگیر خان کو لے جایا گیا۔ مختلف شکایات اور مقدمات کے سلسلے میں متعدد مقامات پر جائے وقوعہ کا معائنہ اور معلومات جمع کرنے کا کام کیا گیا۔ اگرچہ تحقیقات کے مفاد میں پولیس نے باضابطہ طور پر تفصیلات بتانے سے انکار کر دیا۔
Source: PC-sangbadpratidin
میتا نے ممتا بنرجی کی دی ہوئی ساڑھی پہن کر شادی کی
نندی گرام میں یوم شہدا کے موقع پر شوبھندوادھیکاری راستے میں
ممتا کے آتے ہی فوج نے ترنمول اسٹیج کو کھولنا روک دیا
دھند کی وجہ سے موٹر سائیکل اور وین کی آمنے سامنے ٹکر ا گئی!2ہلاک
ایم پی کھگن مرمو اور شنکر گھوش حملے کی زد میں
نیپال کی بدامنی بنگال میں بھی پھیل گئی، لیا گیا بڑا فیصلہ