کیتوگرام11مارچ : یہ مندر عوامی عقیدت کے اعتبار سے بہت "جاگتا ہوا" (مقدس) مانا جاتا ہے۔ یہاں روزانہ عقیدت مندوں کا تانتا بندھا رہتا ہے اور سیکورٹی کے بھی سخت انتظامات ہیں۔ لیکن اس مندر میں ایسا کچھ ہو سکتا ہے، یہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔ صبح جب اہل علاقہ کو واقعے کا علم ہوا تو سب کی زبان پر ایک ہی بات تھی کہ اتنے مقدس مقام پر کم از کم لوگوں کو 'دین و دھرم' کا خوف تو ہونا چاہیے تھا۔ سخت پہرے کے باوجود مشرقی بردھوان کے کیتوگرام میں واقع ستی پیٹھ اٹہاس مندر میں ایک بار پھر چوری کی واردات ہوگئی۔یہ واقعہ ستی پیٹھ کے مرکزی مندر سے متصل کالی مندر میں پیش آیا۔ ہر شام پوجا کے بعد پجاری وہاں کچھ دیر قیام کرتے ہیں اور پھر رات کو مندر کے مرکزی گیٹ کو تالا لگا کر چلے جاتے ہیں، جبکہ باہر سیکورٹی گارڈز پہرہ دیتے ہیں۔ الزام ہے کہ بدمعاشوں نے تالا توڑ کر دیوی کے سونے اور چاندی کے زیورات لوٹ لیے۔صرف یہی نہیں، چوروں نے مندر کے حاملہ خانہ (گربھ گرہ) میں رکھے ہوئے نذرانے کے بکس (پرنامی باکس) کو بھی توڑ ڈالا اور نقدی لے کر فرار ہو گئے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ مندر میں پولیس کیمپ موجود ہے اور سی سی ٹی وی کیمروں سے نگرانی بھی کی جاتی ہے، پھر بھی یہ چوری کیسے ہوئی؟ اس پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ مندر کمیٹی نے کیتوگرام تھانے میں شکایت درج کرائی ہے۔بدھ کی صبح جب خادم نے مندر کھولا تو اس کی نظر واقعے پر پڑی۔ مندر سے کچھ فاصلے پر جنگل میں ٹوٹا ہوا نذرانے کا بکس برآمد ہوا۔ دیکھا گیا کہ مندر میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں پر کیچڑ ملا گیا تھا تاکہ شناخت نہ ہو سکے۔ کیتوگرام تھانہ پولیس معاملے کی تفتیش کر رہی ہے۔ایک مقامی رہائشی نے کہا، "یہاں ماں کا مندر بہت بابرکت ہے۔ دور دور سے لوگ یہاں پوجا کے لیے آتے ہیں۔ یہاں ہر وقت سیکورٹی گارڈز بھی ہوتے ہیں۔ ان سب کے باوجود ایسا کیسے ہو گیا! میں تو کہتا ہوں، کیا چوروں کو دھرم کا کوئی خوف نہیں رہا؟
Source: PC- tv9bangla
میتا نے ممتا بنرجی کی دی ہوئی ساڑھی پہن کر شادی کی
ایم پی کھگن مرمو اور شنکر گھوش حملے کی زد میں
ممتا کے آتے ہی فوج نے ترنمول اسٹیج کو کھولنا روک دیا
نیپال کی بدامنی بنگال میں بھی پھیل گئی، لیا گیا بڑا فیصلہ
دکان کے سامنے سے پاکستانی نوٹ برآمد ہونے سے سنسنی
آئی پی ایل پر 40فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا