Bengal

بردوان میں لاکھوں روپے کے درخت سڑک کے کنارے سے غائب

بردوان میں لاکھوں روپے کے درخت سڑک کے کنارے سے غائب

بردوان : سڑک کے دونوں طرف درختوں کی قطاریں تھیں۔ لیکن، وہ درخت اچانک 'غائب' ہونے لگے۔ الزامات لگائے گئے کہ لاکھوں روپے مالیت کے درخت کاٹ کر اسمگل کیے جا رہے ہیں۔ واقعہ کو لے کر بردواان کے گلسی نمبر 1 بلاک کے شیدرائی گرام پنچایت میں شدید سیاسی دباﺅ شروع ہو گیا ہے۔ کئی پختہ درختوں کے اچانک غائب ہونے نے علاقے میں ایک معمہ پیدا کر دیا ہے۔مقامی باشندوں کا الزام ہے کہ پوٹنا سے شیدرائی گاﺅں کے داخلی راستے پر سڑک کے کنارے لگے بڑے درختوں کو گزشتہ کچھ دنوں سے پراسرار طریقے سے کاٹ کر اسمگل کیا جا رہا ہے۔ تاہم یہ الزام ہے کہ ان درختوں کو کاٹنے میں کسی ٹینڈر کے عمل پر عمل نہیں کیا گیا۔ معاملہ سامنے آتے ہی سیاسی حلقوں میں کھلبلی مچ گئی۔کانگریس لیڈر شیخ نبیرال نے الزام لگایا، "بغیر ٹنڈر کے، ایک سیاسی پارٹی کی مدد سے لاکھوں روپے کے درخت اس طرح سے کاٹے جا رہے ہیں، ہم نے انتظامیہ سے رابطہ کیا ہے، ہماری درخواست ہے کہ درختوں کی کٹائی کو فوری طور پر روکا جائے اور ملزمان کے خلاف کارروائی کی جائے۔دوسری طرف بی جے پی لیڈر راجو پاترا نے سیدھے شیدرائے ترنمول کانگریس کے علاقائی صدر آشیش رائے پر انگلی اٹھائی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ”حکمران جماعت کے نیچے سے لے کر اوپر تک سبھی کو ان درختوں کو کاٹنے کی رقم میں سے حصہ ملے گا، اسی لیے انتظامیہ لاتعلق ہے۔“ مقامی باشندے کارتک باغ کی شکایت زیادہ سنگین ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعہ میں گرام پنچایت کے سربراہ سے لے کر انتظامیہ تک کم و بیش سبھی ملوث ہیں۔اس سلسلے میں ترنمول کے زیر انتظام ضلع کونسل کے صدر شیاماپرسنا لوہار نے کہا، "میں اس معاملے سے واقف نہیں ہوں، ہم اس کی جانچ کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ محکمہ جنگلات کو تحقیقات کا حکم دیا جائے گا۔" ادھر ٹینڈر کے بغیر درختوں کی کٹائی جیسے سنگین الزامات میں انتظامیہ کے کردار پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ علاقے میں اب سوال یہ ہے کہ کیا تحقیقات سے حقیقت سامنے آئے گی یا نہیں۔

Source: Social Media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments