Bengal

بردوان کا لرزہ خیز قتل کیس: 'بوجھ' سمجھ کر بزرگ کو موت کے گھاٹ اتارنے والے باپ بیٹے کو تاحیات قید کی سزا

بردوان کا لرزہ خیز قتل کیس: 'بوجھ' سمجھ کر بزرگ کو موت کے گھاٹ اتارنے والے باپ بیٹے کو تاحیات قید کی سزا

بردوان: "علاج اور دواﺅں کا خرچ نہ اٹھانا پڑے اور بوڑھا باپ خاندان پر بوجھ نہ بنے"— اس بے رحم سوچ کے تحت 86 سالہ بزرگ کو بے دردی سے پیٹ پیٹ کر موت کے گھاٹ اتارنے والے سنگ دل بیٹے اور پوتے کو عدالت نے عبرتناک سزا سنا دی ہے۔ بردوان کورٹ کے تھرڈ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راجیش تمانگ نے اس ہولناک قتل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے مقتول کے سگے بیٹے اور پوتے کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ عدالت نے دونوں مجرموں پر 10,000 روپے جرمانہ بھی عائد کیا ہے، اور جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں انہیں مزید 6 ماہ کی قید کاٹنی ہوگی۔ عدالتی ذرائع کے مطابق، سزا پانے والے مجرموں کے نام فالگنی دتہ (مقتول کا بیٹا) اور انیرودھ دتہ (مقتول کا پوتا) ہیں، جو بردوان تھانے کے تحت سرائیتیکر علاقے کے رہائشی ہیں۔ سرکاری وکیل شیورام گھوشال نے مقدمے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ "یہ انسانیت کو شرمسار کرنے والا کیس تھا۔ بوڑھا شخص اپنے علاج اور ادویات کے اخراجات کی وجہ سے اپنے ہی بیٹے اور پوتے کی نظر میں 'بوجھ' بن چکا تھا، اسی لیے انہوں نے مل کر اسے وحشیانہ طور پر قتل کر دیا۔ اس کیس میں 11 میں سے 8 اہم گواہوں نے گواہی دی، جن میں زیادہ تر ان کے پڑوسی تھے۔" یہ لرزہ خیز واقعہ 29 جون 2022 کو پیش آیا تھا۔ اس دن گھر کے اندر سے بزرگ کی دردناک چیخیں اور رحم کی بھیک مانگنے کی آوازیں سن کر محلے کے کچھ نوجوان وہاں پہنچے۔ گھر کے دروازے اور کھڑکیاں اندر سے مضبوطی سے بند تھیں۔ جب نوجوانوں نے دروازہ کھولنے کے لیے اصرار کیا تو اندر موجود فالگنی اور انیرودھ نے کھڑکی سے ان پر جوتے پھینکے اور صاف کہہ دیا کہ دروازہ نہیں کھلے گا۔ نوجوانوں نے جب شک ہونے پر زبردستی دروازہ توڑا تو اندر کا منظر دیکھ کر ان کی روح کانپ گئی۔ 86 سالہ بزرگ فرش پر لہولہان حالت میں تڑپ رہے تھے، ان کے کانوں اور سر سے تیزی سے خون بہہ رہا تھا اور پورے جسم پر وحشیانہ تشدد کے نشانات تھے۔ باپ اور بیٹے سکون سے ان کے پاس ہی بیٹھے ہوئے تھے۔ نوجوانوں نے فوری طور پر مقامی پولیس کو مطلع کیا۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر بزرگ کو خون میں لت پت حالت میں بچایا اور بردوان میڈیکل کالج اینڈ ہاسپٹل منتقل کیا، جہاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے وہ دم توڑ گئے۔ اس واقعے کے بعد ایک پڑوسی سرجیت سترادھر نے پولیس میں باقاعدہ ایف آئی آر درج کرائی، جس کی بنیاد پر پولیس نے قتل کی دفعات کے تحت باپ بیٹے کو گرفتار کر لیا۔ تفتیشی افسر شانتنو چندرا نے اسی سال 9 ستمبر کو عدالت میں چارج شیٹ پیش کی اور عدالت سے استدعا کی کہ جرم کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ملزمان کو ضمانت نہ دی جائے۔ نتیجے کے طور پر، گرفتاری کے بعد سے دونوں ملزمان جیل میں ہی بند تھے اور اب انہیں اپنی بقیہ زندگی جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزارنی ہوگی۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments