Bengal

بنگال میں اے آئی ایم آئی ایم اور سی پی آئی (ایم) کے ساتھ اتحاد! ہمایوں کبیر نے بتایا اسمبلی انتخابات کے لیے اپنا منصوبہ

بنگال میں اے آئی ایم آئی ایم اور سی پی آئی (ایم) کے ساتھ اتحاد! ہمایوں کبیر نے بتایا اسمبلی انتخابات کے لیے اپنا منصوبہ

کولکاتا: مغربی بنگال کی سیاست میں اسمبلی انتخابات سے قبل نئی سیاسی سرگرمی تیز ہو گئی ہے۔ ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) سے معطل رکنِ اسمبلی ہمایوں کبیر نے اپنی نئی جماعت ’’جنتا اُنین پارٹی‘‘ تشکیل دے کر ریاست کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ ہمایوں کبیر نے واضح کیا ہے کہ وہ ٹی ایم سی مخالف جماعتوں کے ساتھ اتحاد کے امکانات تلاش کر رہے ہیں، جن میں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) اور کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) یعنی سی پی آئی (ایم) شامل ہیں۔ ان کے اس اعلان نے نہ صرف ترنمول کانگریس بلکہ کانگریس اور بائیں محاذ کے حلقوں میں بھی نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ مرشدآباد میں بابری مسجد کے سنگ بنیاد رکھنے کے معاملے پر سرخیوں میں رہنے والے ہمایوں کبیر اب پوری طرح اسمبلی انتخابات کی تیاری میں جُٹ گئے ہیں۔ بھرت پور سے ٹی ایم سی کے رکنِ اسمبلی رہ چکے ہمایوں کبیر کو پارٹی مخالف سرگرمیوں کے الزام میں معطل کیا گیا تھا، جس کے بعد انہوں نے اپنی الگ سیاسی شناخت بنانے کا فیصلہ کیا۔ جنتا اُنین پارٹی کے قیام کے ساتھ ہی انہوں نے ٹی ایم سی مخالف جماعتوں کو اتحاد کا پیغام دیا ہے اور کہا ہے کہ ان کے دروازے 30 تاریخ تک سب کے لیے کھلے ہیں۔ ہمایوں کبیر کا کہنا ہے کہ بائیں محاذ، کانگریس، آئی ایس ایف اور اے آئی ایم آئی ایم سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ بات چیت ممکن ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ کانگریس کے ساتھ اتحاد کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ان کے مطابق اویسی کی قیادت والی اے آئی ایم آئی ایم اور سی پی آئی (ایم) کے ساتھ اتحاد پر سنجیدہ بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر اتحاد نہیں بنتا تو ان کی پارٹی تنہا بھی انتخابی میدان میں اترنے کے لیے تیار ہے۔ سیاسی سرگرمیوں کو مزید تیز کرتے ہوئے ہمایوں کبیر نے مالدہ ضلع میں چار مقامات پر جنتا اُنین پارٹی کے دفاتر کا افتتاح کیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مالدہ میں انگریزی بازار اسمبلی حلقے کو چھوڑ کر تقریباً تمام سیٹوں پر ترنمول کانگریس سے سیدھی ٹکر ہوگی، جبکہ انگریزی بازار میں مقابلہ بنیادی طور پر بی جے پی سے ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ غنی خان چودھری خاندان کو کچھ ووٹ ضرور ملے، لیکن مجموعی طور پر مالدہ میں کانگریس سیاسی طور پر تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ ہمایوں کبیر نے کانگریس قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موسم بینظیر نور پہلے نارتھ مالدہ سے ہار چکی ہیں اور اب دوبارہ کانگریس میں شامل ہو گئی ہیں۔ ان کے مطابق عیسی خان چودھری کی جیت بھی محدود دائرے تک تھی، جس میں مرشدآباد کے شمسیرگنج اور دھولیاں کے ووٹروں کا بڑا کردار رہا۔ ہمایوں کا دعویٰ ہے کہ زمینی سطح پر کانگریس کی تنظیم کمزور ہو چکی ہے۔ دوسری جانب آئی ایس ایف کے رکنِ اسمبلی نوشاد صدیقی کے بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ وہ لیفٹ اور کانگریس کے ساتھ اتحاد کے خواہاں ہیں۔ لیفٹ فرنٹ کے چیئرمین بیمان باسو نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مختلف جماعتوں کے درمیان بات چیت جاری ہے، جبکہ سی پی آئی (ایم) کے لیڈر محمد سلیم کا کہنا ہے کہ کانگریس کو مزید سرگرم کردار ادا کرنا ہوگا۔ ادھر ریاستی کانگریس کمیٹی کا دعویٰ ہے کہ ہائی کمان اپنی سطح پر حکمتِ عملی طے کر رہی ہے۔ ان تمام سیاسی جوڑ توڑ کے بیچ ہمایوں کبیر مسلسل وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی اور ترنمول کانگریس پر حملہ آور ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ ممتا بنرجی کے دورِ حکومت میں اقلیتوں کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کھلے لفظوں میں چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ آنے والے اسمبلی انتخابات میں ممتا بنرجی کی حکومت کا زوال یقینی ہے۔ ہمایوں کبیر کے اس دعوے اور نئے سیاسی اتحادوں کی کوششوں نے مغربی بنگال کی سیاست کو ایک نئے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments