Bengal

بی جے پی کی اس تاریخی جیت کے پیچھے کئی گہرے سیاسی اور انتظامی عوامل کارفرما ہیں

بی جے پی کی اس تاریخی جیت کے پیچھے کئی گہرے سیاسی اور انتظامی عوامل کارفرما ہیں

مغربی بنگال کے 2026 کے اسمبلی انتخابات میں ترنمول کانگریس کے 15 سالہ دورِ اقتدار کے خاتمے اور بی جے پی کی اس تاریخی جیت کے پیچھے کئی گہرے سیاسی اور انتظامی عوامل کارفرما ہیں۔ ترنمول کی جانب سے بی جے پی کو 'بنگالی مخالف' یا 'بیرونی' قرار دینے کی بھرپور کوششوں کے باوجود ممتا بنرجی کا 'قلعہ' کیوں ڈھہ گیا، اس کی بڑی وجوہات درج ذیل ہیں: ۱۔ ایس آئی آر اور ووٹر لسٹ کی تطہیر: تجزیہ کاروں کے مطابق یہ ترنمول کی ہار کی سب سے بڑی تکنیکی وجہ تھی۔ الیکشن کمیشن کے Special Intensive Revision کے عمل کے ذریعے ووٹر لسٹ سے لاکھوں فرضی، مردہ یا منتقل شدہ ووٹرز کے نام نکال دیے گئے۔ اس سے حکمراں جماعت کو ملنے والی 'بھوت ووٹرز' یا فرضی ووٹنگ کی سہولت ختم ہو گئی، جس نے ترنمول کے ووٹ بینک کو گہرا دھچکا پہنچایا۔ ۲۔ آر جی کر واقعہ اور خواتین کا تحفظ: 2024 میں آر جی کر میڈیکل کالج میں پیش آنے والے ہولناک واقعے نے پوری ریاست، بالخصوص پڑھے لکھے متوسط طبقے اور خواتین ووٹرز کے دلوں میں گہرا زخم چھوڑا تھا۔ ترنمول کی 'لکشمی بھنڈار' جیسی عوامی اسکیمیں اس بار اخلاقی غم و غصے کے سامنے ہار گئیں۔ خواتین نے الاونس کے بجائے 'تحفظ' اور 'انصاف' کو ترجیح دی۔ ۳۔ بے لگام کرپشن اور 'نوٹوں کے پہاڑ': پارتھو چٹرجی سے لے کر جیوتی پریہ ملک تک، ترنمول کے کئی بڑے لیڈروں کی گرفتاری اور بھرتی و راشن گھوٹالوں کے الزامات نے عوام میں شدید بیزاری پیدا کی۔ کروڑوں روپے کی برآمدگی کی تصاویر نے ممتا بنرجی کے 'سادگی اور ایمانداری' کے تاثر کو بری طرح متاثر کیا۔ ۴۔ مرکزی فورسز کی سرگرمی اور بے خوف ووٹنگ: اس بار الیکشن کمیشن نے غیر معمولی طور پر مرکزی فورسز کا استعمال کیا۔ حساس علاقوں میں فورسز کے مسلسل روٹ مارچ نے ووٹرز کا اعتماد بحال کیا، جس کی وجہ سے ترنمول کے نچلے درجے کے کارکن ووٹرز کو ڈرانے دھمکانے میں ناکام رہے اور لوگوں نے برسوں بعد اپنی مرضی سے ووٹ ڈالے۔ ۵۔ اقلیتی ووٹوں کی تقسیم: مالدہ اور مرشد آباد جیسے مسلم اکثریتی اضلاع میں ترنمول کے روایتی ووٹ بینک میں دراڑیں پڑ گئیں۔ بائیں بازو اور کانگریس کے اتحاد کی مضبوط پوزیشن اور کچھ آزاد امیدواروں کی وجہ سے اقلیتی ووٹ تقسیم ہوئے، جس کا براہ راست فائدہ بی جے پی کو ملا۔ ۶۔ سرکاری ملازمین کی ناراضگی اور ساتواں پے کمیشن: ریاست کے لاکھوں سرکاری ملازمین مہنگائی الاونس اور پے کمیشن کے معاملے پر طویل عرصے سے ناراض تھے۔ بی جے پی کا یہ وعدہ کہ اقتدار میں آتے ہی 45 دنوں کے اندر ساتواں پے کمیشن نافذ کیا جائے گا، ملازمین کے ایک بڑے طبقے کو اپنی طرف کھینچنے میں کامیاب رہا۔ ۷۔ خوشامد کی سیاست اور جوابی پولرائزیشن: بی جے پی کی 'ہندو ووٹ یکجہتی' کی حکمت عملی اس بار کامیاب رہی۔ ترنمول پر 'اقلیتی خوشامد' کے الزامات کو بی جے پی نے موثر طریقے سے عوام تک پہنچایا۔ بالخصوص پڑوسی ملک بنگلہ دیش کے حالات نے بھی یہاں کی انتخابی مہم پر اثر ڈالا، جس کا مقابلہ ترنمول نہ کر سکی۔ ۸۔ انتظامی کنٹرول کا خاتمہ: انتخابات سے پہلے ہی الیکشن کمیشن نے چیف سکریٹری، ہوم سکریٹری اور پولیس کے اعلیٰ حکام کو تبدیل کر کے انتظامیہ کو مکمل طور پر غیر جانبدار بنا دیا تھا۔ اس سے ترنمول کی وہ 'انتخابی مشینری' کام نہ کر سکی جو ماضی میں انتظامیہ کے تعاون سے متحرک رہتی تھی۔

Source: PC-sangbadpratidin

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments