Bengal

بھوت بھگانے کے لیے نوجوان کو باندھ کر آگ کے داغ دیے گئے

بھوت بھگانے کے لیے نوجوان کو باندھ کر آگ کے داغ دیے گئے

کولکاتا9جنوری :ابھیشیک چودھری، کالنا: گھر کے ایک فرد کی کافی عرصہ پہلے موت ہو گئی تھی، لیکن کسی وجہ سے ان کی آخری رسومات (پنڈ دان) ادا نہیں کی گئی تھیں۔ اب یہ افواہ پھیل گئی کہ مرنے والا شخص بھوت بن کر گھوم رہا ہے اور گھر کے ایک نوجوان پر اس کا سایہ ہے! اس توہم پرستی کے نتیجے میں کالنا میں 'قرون وسطیٰ جیسی بربریت' دیکھنے کو ملی۔ بھوت بھگانے کے نام پر اس نوجوان کے ہاتھ پاوں رسی سے باندھ کر اسے آگ کے داغ دیے گئے۔ اوجھا کے کہنے پر نوجوان پر کیے جانے والے اس تشدد کی تصاویر وائرل ہوتے ہی کالنا کے تالا گاوں کے اس واقعے نے لوگوں کو حیران کر دیا ہے۔ آج کے سائنسی دور میں بھی ایسی توہم پرستی اور اندھے عقیدے کے نتیجے میں ہونے والے تشدد کی ہر طرف مذمت کی جا رہی ہے۔ گاوں کی ہی ایک خاتون اوجھا کے خلاف شکایت درج ہونے کے بعد وہ مفرور ہے۔ کالنا 2 بلاک کی بیدیا پور پنچایت کے تالا گاوں میں 22 سالہ نوجوان کے ہاتھ پاوں رسی سے باندھ کر اسے آگ کے داغ دیے جا رہے تھے۔ وہ تکلیف برداشت نہ کرتے ہوئے بچاو کے لیے چیخ رہا تھا، لیکن 'بھوت کے سائے' میں مبتلا اس نوجوان کو بچانے کے لیے کوئی آگے نہیں آیا۔ بھوت اتارنے کے نام پر کمرے کے اندر کپڑوں کے پیچھے گزشتہ دو دنوں سے یہ انسانیت سوز تشدد جاری تھا۔ ان تصاویر کے وائرل ہونے پر علاقے کے باشعور لوگ حیران ہیں، لیکن نوجوان کی ماں کے دعوے نے سب کو مزید حیرت میں ڈال دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گھر کے ایک رکن کی موت کے بعد مذہبی رسومات ادا نہ ہونے کی وجہ سے ان کے بیٹے کو بھوت نے پکڑ لیا ہے۔ گاوں والے اس بارے میں کچھ بولنے کو تیار نہیں، لیکن جیسے ہی سائنس منچ (Vigyan Manchu) تک یہ خبر پہنچی، وہ متحرک ہو گئے۔ سائنس منچ کے ارکان نے نوجوان کو توہم پرستی کے اس تشدد سے بچانے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔ کالنا سائنس منچ کے اسسٹنٹ صدر تاپس کمار کارفا کا کہنا ہے: "اکیسویں صدی میں بھوتوں کے وجود کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ پولیس، انتظامیہ، پنچایت اور علاقے کے باشعور شہریوں کو ایسے واقعات روکنے ہوں گے۔ ایسے واقعات کی تکرار روکنے کے لیے بیداری مہم چلانی ہوگی۔ سائنس منچ نے یہ بھی بتایا کہ اس سے قبل جنوری 2025 میں بھی اس پنچایت کے علاقے میں بھوتوں کے خوف کے خلاف مہم چلائی گئی تھی۔ اس وقت بیدیا پور رتھ تلا کے لوگ بھوت کے ڈر سے گھروں میں قید ہو گئے تھے، لیکن بیداری مہم کے بعد صورتحال قابو میں آئی تھی۔ اب سائنس منچ دوبارہ گاوں والوں کو سمجھانے اور ایسے واقعات روکنے کے لیے کوشاں ہے۔

Source: PC- sangbadpratidin

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments