ایک گھریلو خاتون نے بیٹی کو جنم دیا۔ مگر انہیں بیٹا چاہیے تھا۔ اس ’جرم‘ میں خاتون کو تکیے سے دبا کر، گلا گھونٹ کر قتل کر دیا گیا۔ اس واقعے میں خاتون کے شوہر، سسر، ساس اور دیور کو عمر قید کی سزا سنائی ہے بنگاوں عدالت نے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ، 13 گواہوں کی گواہی، شواہد کا جائزہ لینے کے بعد جج مرتیونجے کارمکر نے 4 افراد کو عمر قید کی سزا سنائی۔ گوپال نگر تھانے کے کام دیو پور کے رہائشی تارک کارمکر سے شادی ہوئی تھی پنکی کارمکر کی۔ تارک پیشے سے گیراج مِستری ہیں۔ پنکی گھریلو خاتون تھیں۔ جوان خاتون کے سسرالیوں کے خلاف جہیز کے مطالبے پر تشدد کے بھی الزامات تھے۔ شادی کے ڈھائی سال بعد خاتون حاملہ ہوئی۔ بیٹے کی امید میں دن گن رہے تھے اس کے سسرالی۔ خاتون نے بیٹی کو جنم دیا۔ اس سے تشدد کی شدت اور بڑھ گئی۔ بیٹی کو جنم دینے کے 3 ماہ بعد پنکی کو خاندان کے افراد نے قتل کر دیا۔ پنکی کے میکے والوں نے بتایا کہ 2017 کے 14 مئی کی رات انہوں نے پنکی سے بات کی تھی۔ اگلی صبح بیٹی کے سسرال سے فون کر کے بتایا گیا کہ ان کی بیٹی بیمار ہے۔ بنگاوں سب ڈویڑن ہسپتال میں داخل ہے۔ وہ ہسپتال آئے تو دیکھا پنکی کی لاش مورچے میں رکھی ہے۔ اس واقعے کے بعد ہی پنکی کے میکے والوں نے اس کے شوہر، سسر، ساس اور دیور کے خلاف گوپال نگر تھانے میں قتل کا مقدمہ درج کرایا۔ چاروں کو گرفتار کر لیا گیا۔ طویل سماعت کے بعد سزا سنائی گئی۔ سزا کے اعلان پر خاتون کے خاندان والے خوش ہیں۔ مقتولہ خاتون کے بھائی نے کہا، "9 سال بعد سزا ہوئی۔ صرف بیٹی ہونے کی وجہ سے اور جہیز کی رقم نہ دینے پر جس طرح بہن کو تشدد کر کے قتل کیا، انہیں سزا ملنی چاہیے تھی۔
Source: PC-sangbadpratidin
میتا نے ممتا بنرجی کی دی ہوئی ساڑھی پہن کر شادی کی
نندی گرام میں یوم شہدا کے موقع پر شوبھندوادھیکاری راستے میں
ممتا کے آتے ہی فوج نے ترنمول اسٹیج کو کھولنا روک دیا
دھند کی وجہ سے موٹر سائیکل اور وین کی آمنے سامنے ٹکر ا گئی!2ہلاک
ایم پی کھگن مرمو اور شنکر گھوش حملے کی زد میں
نیپال کی بدامنی بنگال میں بھی پھیل گئی، لیا گیا بڑا فیصلہ