مرشدآباد کے بیل ڈانگہ کیس میں پولیس کی جانب سے نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی کو کیس ڈائری فراہم نہ کرنے پر تعطل برقرار ہے، جس کی وجہ سے قانونی اور انتظامی حلقوں میں چہ میگوئیاں شروع ہو گئی ہیں۔منگل کی سماعت کے بعد، NIA نے جمعرات کو مرشدآباد پولیس کو ای میل بھیج کر کیس ڈائری طلب کی، لیکن ذرائع کے مطابق پولیس کی جانب سے اب تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے۔ کی خصوصی عدالت نے واضح طور پر ہدایت دی تھی کہ 26 فروری تک کیس ڈائری مرکزی ایجنسی کے حوالے کی جائے۔ عدالتی حکم اور وزارت داخلہ کی ہدایات کے باوجود پولیس کی جانب سے تعاون نہ کرنے پر این آئی اے نے عدالت میں برہمی کا اظہار کیا ہے۔بیل ڈانگہ میں ایک مہاجر مزدور کی موت کے بعد حالات کشیدہ ہو گئے تھے۔ اس دوران سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا گیا اور میڈیا نمائندوں کے ساتھ بھی بدسلوکی کی گئی۔عدالت میں این آئی اے کے وکلائ نے کہا، "جس کیس میں خود پولیس پر حملہ ہوا اور پولیس اہلکار زخمی ہوئے، ہم اسی کی تفتیش کر رہے ہیں، لیکن پولیس ہمیں کیس ڈائری نہیں دے رہی۔ اگر پولیس نے ہائی کورٹ میں اس کے خلاف اپیل کی ہے تو وہ کوئی حکم نامہ دکھائے، ورنہ کیس ڈائری دینا لازمی ہے۔"عدالت نے پولیس سے دریافت کیا کہ کیس ڈائری فراہم کرنے میں تاخیر کیوں کی جا رہی ہے۔ آج اس کیس میں نامزد 36 ملزمان میں سے 31 کی عدالت میں حاضری متوقع ہے۔ عدالت کے سخت رخ کے باوجود پولیس کی خاموشی نے تفتیشی عمل کو سست کر دیا ہے۔پولیس اب تک ہائی کورٹ کا ایسا کوئی حکم نامہ پیش نہیں کر سکی ہے جو انہیں کیس ڈائری دینے سے روکتا ہو، جس کی وجہ سے این آئی اے کی خصوصی عدالت نے دوبارہ ڈائری سونپنے کی تاکید کی ہے۔
Source: PC- tv9bangla
میتا نے ممتا بنرجی کی دی ہوئی ساڑھی پہن کر شادی کی
ایم پی کھگن مرمو اور شنکر گھوش حملے کی زد میں
ممتا کے آتے ہی فوج نے ترنمول اسٹیج کو کھولنا روک دیا
نیپال کی بدامنی بنگال میں بھی پھیل گئی، لیا گیا بڑا فیصلہ
دکان کے سامنے سے پاکستانی نوٹ برآمد ہونے سے سنسنی
آئی پی ایل پر 40فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا