مغربی بنگال کے ضلع مشرقی بردھوان سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان، سومیہ دیپ گوسوامی کو دہلی میں پارلیمنٹ ہاوس میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران پولیس نے حراست میں لے لیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس نوجوان کے والدین بی جے پی کے مقامی لیڈر ہیں، لیکن وہ خود ایس آئی آر کے نام پر ووٹروں کے نام کاٹے جانے کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ سومیہ دیپ کا ماننا ہے کہ ایس آئی آر کے نام پر بنگال کے بہت سے اہل ووٹروں کے نام کاٹ دیے گئے ہیں، جو کہ شہریوں کے حقوق پر شب خون مارنے کے مترادف ہے۔ نوجوان نے اس احتجاج کے لیے 8 اپریل کی تاریخ کا انتخاب کیا، کیونکہ 97 سال قبل اسی دن انقلابی بھگت سنگھ اور بٹوکیشور دت نے برطانوی حکومت کے عوامی دشمن قوانین کے خلاف اسمبلی میں بم پھینکے تھے۔ سومیہ دیپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ ان کے پاس بم تو نہیں لیکن بھگت سنگھ کے خیالات اور آزادی کی تاریخ بطور ہتھیار موجود ہے۔سومیہ دیپ کے والد آلوک ترنگ گوسوامی بی جے پی بردھوان زون کے اہم عہدیدار ہیں اور ان کی والدہ بلبل گوسوامی بولپور تنظیمی ضلع کی بی جے پی سکریٹری ہیں۔سومیہ دیپ کے والد نے اپنے بیٹے کے اقدام کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا بیٹا 29 سال کا پڑھا لکھا نوجوان ہے اور اسے آزادانہ سوچ رکھنے کا حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا بیٹا شہریوں کے حقوق اور جمہوری طریقے سے احتجاج کر رہا ہے، جس میں کوئی برائی نہیں ہے۔ دہلی پولیس نے نوجوان کو حراست میں لینے کے بعد اس کے والدین کو مطلع کیا۔ اطلاعات کے مطابق، پولیس اسے لے کر کولکتہ روانہ ہو چکی ہے اور اس کے والدین بھی اس سے ملنے کے لیے کولکتہ پہنچ رہے ہیں۔اس واقعے نے منگل کوٹ اور گردونواح کے علاقوں میں کافی سنسنی پھیلا دی ہے، خاص طور پر بی جے پی لیڈر کے بیٹے کی جانب سے حکومتی پالیسی کے خلاف اس منفرد احتجاج نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
Source: PC-sangbadpratidin
میتا نے ممتا بنرجی کی دی ہوئی ساڑھی پہن کر شادی کی
نندی گرام میں یوم شہدا کے موقع پر شوبھندوادھیکاری راستے میں
دھند کی وجہ سے موٹر سائیکل اور وین کی آمنے سامنے ٹکر ا گئی!2ہلاک
ایم پی کھگن مرمو اور شنکر گھوش حملے کی زد میں
ممتا کے آتے ہی فوج نے ترنمول اسٹیج کو کھولنا روک دیا
نیپال کی بدامنی بنگال میں بھی پھیل گئی، لیا گیا بڑا فیصلہ