بانکوڑا5جنوری : دو کمروں والے ایک بیت الخلا کی تعمیر کے لیے ساڑھے چھ لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ کیا آپ حیران ہو رہے ہیں؟ جہاں شہری علاقوں میں سرکاری ہاوسنگ اسکیم کے تحت پورا گھر بنانے کے لیے 3 لاکھ 68 ہزار روپے اور دیہاتوں میں 1 لاکھ 20 ہزار روپے مختص کیے جاتے ہیں، وہاں صرف ایک بیت الخلا کے لیے سرکاری فنڈز کی یہ رقم سن کر حیران ہونا فطری بات ہے۔ بانکوڑا میونسپلٹی کے سامنے زیر تعمیر اس قیمتی بیت الخلا کو لے کر سیاسی تنازعہ شروع ہو گیا ہے اور 'کٹ منی' (کمیشن) کے معاملے پر میونسپلٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی ہے۔ بانکوڑا میونسپلٹی کے سامنے ایک پرانے ٹوائلٹ کو توڑ کر حال ہی میں ایک ٹھیکیدار کمپنی نے وہاں دو کمروں پر مشتمل ٹوائلٹ بلاک کی تعمیر کا کام شروع کیا ہے۔ ضابطے کے مطابق، تعمیراتی کام کی تفصیلات پر مبنی ایک بورڈ میونسپلٹی کے سامنے لگایا گیا۔ اس بورڈ کو دیکھ کر وہاں سے گزرنے والے لوگ دنگ رہ گئے۔ بورڈ پر دیکھا گیا کہ اس ٹوائلٹ بلاک کی تعمیر کے لیے کل 6 لاکھ 51 ہزار 733 روپے مختص کیے گئے ہیں، جسے دیکھ کر مقامی راہگیر حیران رہ گئے۔ کئی لوگوں نے اس مہنگے ٹوائلٹ بلاک کی معلومات والے بورڈ کی تصاویر کھینچ کر سوشل میڈیا پر پوسٹ کر دیں، جس کے بعد تنقید کا ایک طوفان کھڑا ہو گیا۔ آسنسول کی ایم ایل اے اگنی مترا پال نے گزشتہ روز اپنے سوشل میڈیا اکاونٹ پر یہ تصویر پوسٹ کی اور براہ راست میونسپلٹی پر 'کٹ منی' لینے کا الزام عائد کیا۔
Source: PC- tv9bangla
میتا نے ممتا بنرجی کی دی ہوئی ساڑھی پہن کر شادی کی
ایم پی کھگن مرمو اور شنکر گھوش حملے کی زد میں
ممتا کے آتے ہی فوج نے ترنمول اسٹیج کو کھولنا روک دیا
نیپال کی بدامنی بنگال میں بھی پھیل گئی، لیا گیا بڑا فیصلہ
دکان کے سامنے سے پاکستانی نوٹ برآمد ہونے سے سنسنی
آئی پی ایل پر 40فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا