بانکوڑہ18فروری : اشتہارات کی چمک دھمک نے حقیقت کو چھپا دیا ہے۔ ’بنگلار باڑی‘ (بنگال کا گھر) اسکیم کے بڑے بڑے ہورڈنگز کے پیچھے جنگل محل کی اصل تصویر دب کر رہ گئی ہے۔ ضلع بانکوڑہ کے رانی باندھ بلاک کے 13 شبر اکثریتی دیہات اس اسکیم کے فوائد سے مکمل طور پر محروم ہیں۔ اپنے حق کے لیے شبر برادری کے افراد نے بلاک انتظامیہ کے پاس دستک دیتے ہوئے علیحدہ سروے کا مطالبہ کیا ہے، جس پر اب سیاسی جنگ شروع ہوگئی ہے۔ آواس یوجنا (ہاوسنگ اسکیم) پر مرکز اور ریاست کے درمیان جاری کھینچا تانی کے دوران، ریاستی حکومت نے 20 لاکھ بے گھر خاندانوں کو چھت فراہم کرنے کے لیے ’بنگلار باڑی‘ منصوبہ شروع کیا ہے۔ شہروں سے لے کر دیہات تک اس منصوبے کے بڑے بڑے ہورڈنگز نظر آتے ہیں، لیکن ان اشتہارات کے شور میں جنگل محل کے انتہائی غریب شبر خاندانوں کے ٹوٹے پھوٹے گھروں کی بدحالی کہیں گم ہو کر رہ گئی ہے۔الزام ہے کہ رانی باندھ بلاک کے 19 شبر دیہاتوں میں سے 13 دیہات ایسے ہیں جہاں کے کسی بھی خاندان کو اس ہاوسنگ اسکیم کا فائدہ نہیں ملا۔ مجبورا، بنگال کے قدیم ترین قبائل میں سے ایک، شبر برادری کے لوگ رانی باندھ بلاک انتظامیہ کے دفتر پہنچے اور اپنے لیے نئے سرے سے سروے کا مطالبہ کیا۔ حیران کن بات یہ ہے کہ جہاں ایک طرف ریاست بھر میں 20 لاکھ مستفیدین کے نام درج کیے گئے ہیں اور کڑی جانچ (سروے) کے بعد فہرست تیار کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے، وہیں دوسری طرف یہ شکایتیں عام ہیں کہ فہرست میں ترنمول کانگریس کے خوشحال پنچایت پردھان اور عالیشان گھروں کے مالکوں کے نام تو شامل ہیں، لیکن رانی باندھ بلاک کے سینکڑوں انتہائی غریب شبر خاندانوں کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ رانی باندھ بلاک میں ’بنگلار باڑی‘ منصوبے کے تحت تقریباً ڈھائی ہزار گھر الاٹ کیے گئے ہیں، لیکن بردہ، بیتھوالا اور بڑ ڈانگہ سمیت 13 شبر دیہاتوں کے حصے میں ایک بھی گھر نہیں آیا۔ جبکہ ان دیہاتوں میں رہنے والے خاندانوں کے کچے گھروں کی حالت دیکھ کر ہی اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے پاس سر چھپانے کی مناسب جگہ تک نہیں ہے۔ اس تفریق نے اب علاقے میں ایک بڑے سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر لی ہے۔
Source: PC- tv9bangla
میتا نے ممتا بنرجی کی دی ہوئی ساڑھی پہن کر شادی کی
ایم پی کھگن مرمو اور شنکر گھوش حملے کی زد میں
ممتا کے آتے ہی فوج نے ترنمول اسٹیج کو کھولنا روک دیا
نیپال کی بدامنی بنگال میں بھی پھیل گئی، لیا گیا بڑا فیصلہ
دکان کے سامنے سے پاکستانی نوٹ برآمد ہونے سے سنسنی
آئی پی ایل پر 40فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا