مالدہ 19فروری :بنگلہ دیش میں ہونے والی حالیہ سیاسی تبدیلیوں اور انتخابات میں جماعت اسلامی کی مضبوط کارکردگی نے سرحد کے اس پار، بالخصوص مالدہ کے باشندوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔بنگلہ دیش میں عبوری حکومت کے قیام کے بعد سے ہی سرحد پار سے دراندازی کی کوششوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اب انتخابی نتائج کے بعد سرحدی دیہاتوں میں یہ خوف بڑھ گیا ہے کہ دراندازوں کی سرگرمیاں مزید تیز ہو سکتی ہیں۔ مالدہ کے کئی سرحدی علاقوں میں ابھی تک خاردار تاروں کی باڑ نہیں لگی ہے۔ مقامی باشندوں کا ماننا ہے کہ ان کھلے راستوں کا فائدہ اٹھا کر بنگلہ دیشی عناصر آسانی سے بھارتی حدود میں داخل ہو سکتے ہیں۔ ۱۲ فروری کے انتخابات میں جماعت اسلامی نے ۷۷ نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔ مالدہ کے بالکل سامنے واقع بنگلہ دیشی ضلع چاپائی نواب گنج کی تمام نشستوں پر جماعت کے حامی امیدواروں کی جیت نے بھارتی ایجنسیوں کو چوکنا کر دیا ہے۔بھارتی انٹیلی جنس اداروں نے سرحد پار بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر ہائی الرٹ جاری کیا ہے، جس سے مقامی لوگوں میں عدم تحفظ کا احساس مزید گہرا ہوا ہے۔ جہاں ابھی تک خاردار تاریں نہیں لگی ہیں، وہاں فوری طور پر فینسنگ کا کام مکمل کیا جائے۔سرحدی علاقوں میں نگرانی کو مزید سخت کیا جائے تاکہ کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کو روکا جا سکے۔ مالدہ کے عوام کو ڈر ہے کہ سرحد کے اس پار سخت گیر نظریات والی جماعت کی مضبوطی سے سرحد پر امن و امان کی صورتحال بگڑ سکتی ہے اور سماجی و جغرافیائی توازن متاثر ہو سکتا ہے۔
Source: PC- tv9bangla
میتا نے ممتا بنرجی کی دی ہوئی ساڑھی پہن کر شادی کی
ایم پی کھگن مرمو اور شنکر گھوش حملے کی زد میں
ممتا کے آتے ہی فوج نے ترنمول اسٹیج کو کھولنا روک دیا
نیپال کی بدامنی بنگال میں بھی پھیل گئی، لیا گیا بڑا فیصلہ
دکان کے سامنے سے پاکستانی نوٹ برآمد ہونے سے سنسنی
آئی پی ایل پر 40فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا