Bengal

بلاگڑھ 'بچہ چور' تشدد کیس: 2 افراد کو عمر قید اور 23 قصورواروں کو 7 سال جیل کی سزا

بلاگڑھ 'بچہ چور' تشدد کیس: 2 افراد کو عمر قید اور 23 قصورواروں کو 7 سال جیل کی سزا

ہگلی کے بلاگڑھ میں 'بچہ چور' کے شبہ میں ایک ماں، بیٹی اور ان کے ڈرائیور کو زندہ جلانے کی کوشش کے کیس میں چنچڑہ کی ایک فاسٹ ٹریک کورٹ نے تاریخی سزا سنائی ہے۔ جمعہ کو جج پیوش کانتی رائے نے اس کیس کے تمام 25 قصورواروں کو سزا کا حکم دیا۔ہگلی کے بلاگڑھ میں 2017 میں پیش آنے والے اس لرزہ خیز واقعے میں عدالت نے ایک ساتھ 25 افراد کو سزا سنا کر ایک نئی مثال قائم کی ہے۔ چیف سرکاری وکیل شنکر گنگوپادھیائے نے اسے ایک 'تاریخی فیصلہ قرار دیا ہے۔دو اہم ملزمان، گوپال رائے اور پورنیما ملک کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔بقیہ 23 قصورواروں کو 7، 7 سال قید کی سزا دی گئی ہے۔21 جنوری 2017 کو کلیانی یونیورسٹی کے ایک پروفیسر کی اہلیہ رنجبالا گھوش اور بیٹی اپرنا گھوش اپنی ملازمہ کی تلاش میں بلاگڑھ کے آسن پور گاوں گئی تھیں۔ ان کے ساتھ گاڑی کا ڈرائیور وشواناتھ منڈل بھی تھا۔گاوں میں اجنبیوں کو دیکھ کر 'بچہ چور' کی افواہ پھیل گئی۔ مشتعل دیہاتیوں نے گاڑی کو گھیر لیا اور ان تینوں پر وحشیانہ تشدد کیا۔ بعد ازاں گاڑی کو آگ لگا کر انہیں زندہ جلانے کی کوشش بھی کی گئی۔جب بلاگڑھ تھانے کی پولیس انہیں بچانے پہنچی تو دیہاتیوں نے پولیس پر بھی حملہ کر دیا۔ اس حملے میں 11 پولیس اہلکار اور سیوک رضاکار زخمی ہوئے، جن میں سے ایک سیوک رضاکار اکھل بندھو گھوش کو تیر مار کر زخمی کیا گیا تھا۔ تحقیقاتی افسر آلوک چٹرجی نے 9 جون 2017 کو 25 افراد (جن میں 5 خواتین شامل تھیں) کے خلاف چارج شیٹ داخل کی تھی۔ کیس کے دوران ڈاکٹروں، پولیس اہلکاروں اور متاثرین سمیت کل 27 گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے۔سرکاری وکیل جینتو ساہا نے بتایا کہ اس وقت ریاست میں پھیلی بچہ چوری کی افواہوں کے دوران یہ ایک انتہائی سنگین واقعہ تھا، اور عدالت کے اس فیصلے سے معاشرے میں ایک سخت پیغام جائے گا کہ قانون ہاتھ میں لینے والوں کو بخشا نہیں جائے گا۔

Source: PC- sangbadpratidin

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments