بچپن میں جنسی زیادتی کا نشانہ بننا، خاص طور پر جب وہ رشتہ دار کے ذریعے ہو اور قریبی لوگ—یہاں تک کہ ماں—اسے اہمیت نہ دیں، یہ ایک ناقابلِ بیان ذہنی اذیت پیدا کرتا ہے۔ معاشرے میں اکثر ایک غلط تصور پایا جاتا ہے کہ جنسی ہراسانی کا نشانہ صرف لڑکیاں بنتی ہیں۔ مگر لڑکے بھی اسی طرح اس کا شکار ہو سکتے ہیں۔ بچپن میں ‘حقیر ٹھہرانا’ یا ‘چھوٹا کر کے دیکھنا’—یہی رویہ اکثر تشدد کا آغاز ہوتا ہے۔ جب لڑکے شکایت کرتے ہیں تو بہت سے خاندان اسے ‘بچگانہ حرکت’ یا ‘مبالغہ آرائی’ قرار دے کر ٹال دیتے ہیں۔ اس ردعمل کی وجہ سے بچہ مزید خاموش ہو جاتا ہے اور طویل مدتی ذہنی زخم اٹھائے رکھتا ہے۔آپ کی بیان کردہ صورتِ حال میں ماں کا توجہ نہ دینا ایک گہری ناکامی ہے۔ والدین کی اولین ذمہ داری بچے کی حفاظت یقینی بنانا ہے۔ جب کوئی بچہ شکایت کرے تو اسے باور کرنا اور مناسب اقدام اٹھانا ضروری ہے۔ خاموشی یا غفلت یہاں زیادتی کے اعادہ کا باعث بنتی ہے۔
Source: PC-anandabazar
میتا نے ممتا بنرجی کی دی ہوئی ساڑھی پہن کر شادی کی
نندی گرام میں یوم شہدا کے موقع پر شوبھندوادھیکاری راستے میں
دھند کی وجہ سے موٹر سائیکل اور وین کی آمنے سامنے ٹکر ا گئی!2ہلاک
ایم پی کھگن مرمو اور شنکر گھوش حملے کی زد میں
ممتا کے آتے ہی فوج نے ترنمول اسٹیج کو کھولنا روک دیا
نیپال کی بدامنی بنگال میں بھی پھیل گئی، لیا گیا بڑا فیصلہ