Bengal

بچپن میں جنسی زیادتی کا نشانہ بننا, ایک ناقابلِ بیان ذہنی اذیت پیدا کرتا ہے

بچپن میں جنسی زیادتی کا نشانہ بننا, ایک ناقابلِ بیان ذہنی اذیت پیدا کرتا ہے

بچپن میں جنسی زیادتی کا نشانہ بننا، خاص طور پر جب وہ رشتہ دار کے ذریعے ہو اور قریبی لوگ—یہاں تک کہ ماں—اسے اہمیت نہ دیں، یہ ایک ناقابلِ بیان ذہنی اذیت پیدا کرتا ہے۔ معاشرے میں اکثر ایک غلط تصور پایا جاتا ہے کہ جنسی ہراسانی کا نشانہ صرف لڑکیاں بنتی ہیں۔ مگر لڑکے بھی اسی طرح اس کا شکار ہو سکتے ہیں۔ بچپن میں ‘حقیر ٹھہرانا’ یا ‘چھوٹا کر کے دیکھنا’—یہی رویہ اکثر تشدد کا آغاز ہوتا ہے۔ جب لڑکے شکایت کرتے ہیں تو بہت سے خاندان اسے ‘بچگانہ حرکت’ یا ‘مبالغہ آرائی’ قرار دے کر ٹال دیتے ہیں۔ اس ردعمل کی وجہ سے بچہ مزید خاموش ہو جاتا ہے اور طویل مدتی ذہنی زخم اٹھائے رکھتا ہے۔آپ کی بیان کردہ صورتِ حال میں ماں کا توجہ نہ دینا ایک گہری ناکامی ہے۔ والدین کی اولین ذمہ داری بچے کی حفاظت یقینی بنانا ہے۔ جب کوئی بچہ شکایت کرے تو اسے باور کرنا اور مناسب اقدام اٹھانا ضروری ہے۔ خاموشی یا غفلت یہاں زیادتی کے اعادہ کا باعث بنتی ہے۔

Source: PC-anandabazar

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments