اسمبلی انتخابات سے قبل کسانوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے ریاستی کابینہ نے آلو کی خریداری کی قیمت مقرر کی تھی۔ ریاست کے محکمہ زرعی مارکیٹنگ نے اس فیصلے کو نافذ کرنے کے لیے نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق، ریاستی حکومت کسانوں سے 9 روپے 50 پیسے فی کلو کے حساب سے آلو خریدے گی۔ سرکاری انتظام کے تحت خریداری کا یہ عمل فی الحال 31 مارچ تک جاری رہے گا۔ تاہم، صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ضرورت پڑنے پر اس مدت میں مزید توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔ سرکاری منصوبے کے مطابق، مجموعی طور پر 12 لاکھ ٹن 'جیوتی' قسم کے آلو خریدنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ کولڈ اسٹوریج میں آلو ذخیرہ کرنے کے لیے تقریباً 30 فیصد جگہ پہلے ہی مخصوص کر دی گئی ہے۔ ایک کسان حکومت کو زیادہ سے زیادہ 35 کوئنٹل یعنی 70 بوریاں آلو فروخت کر سکے گا۔ ریاست کے آلو پیدا کرنے والے بڑے 12 اضلاع میں یہ منصوبہ نافذ کیا جائے گا۔ انتظامیہ اس بات کو یقینی بنائے گی کہ آلو صرف حقیقی کسانوں سے ہی مقررہ قیمت پر خریدے جائیں۔ اس کے لیے کسانوں کو بی ڈی او آفس میں درخواست دینی ہوگی۔ یہ سہولت "پہلے آئیے، پہلے پائیے" کی بنیاد پر دی جائے گی۔ درخواست کی جانچ کے وقت بی ڈی او آفس 'کریساک بندھو' سرٹیفکیٹ، بنگلہ ششیہ بیما (انشورنس) کے دستاویزات، کسان کریڈٹ کارڈ اور زمین کے کاغذات کی پڑتال کرے گا۔ اس کے بعد متعلقہ کولڈ اسٹوریج کا تعین کر دیا جائے گا۔ کسانوں کی فہرست متعلقہ کولڈ اسٹوریج کو بھیج دی جائے گی اور فروخت کی رقم براہ راست کسان کے بینک اکاونٹ میں جمع کرائی جائے گی۔ سیاسی حلقوں کے ایک حصے کا ماننا ہے کہ آلو پیدا کرنے والے دیہی علاقوں میں اس اقدام سے حکمران جماعت کو آئندہ اسمبلی انتخابات میں سیاسی فائدہ مل سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، محکمہ زرعی مارکیٹنگ کے حکام کے ایک طبقے کا خیال ہے کہ اس سال آلو کی اچھی فصل ہونے کی وجہ سے جہاں کسانوں کو فائدہ ہوگا، وہیں عام لوگوں کو بھی سستے داموں آلو میسر آ سکیں گے۔
Source: PC- anandabazar
میتا نے ممتا بنرجی کی دی ہوئی ساڑھی پہن کر شادی کی
ایم پی کھگن مرمو اور شنکر گھوش حملے کی زد میں
ممتا کے آتے ہی فوج نے ترنمول اسٹیج کو کھولنا روک دیا
نیپال کی بدامنی بنگال میں بھی پھیل گئی، لیا گیا بڑا فیصلہ
دکان کے سامنے سے پاکستانی نوٹ برآمد ہونے سے سنسنی
آئی پی ایل پر 40فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا