نادیہ کے کوتوالی تھانہ علاقے میں ماں کی موت کے بعد آنکھیں عطیہ کرنے کے معاملے نے تنازع کی شکل اختیار کر لی ہے۔ اسکول ٹیچر اور سماجی کارکن بیٹے پر اپنی ہی ماں کی آنکھیں فروخت کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ اگرچہ ٹیچر کا دعویٰ ہے کہ ان کے پاس میڈیکل کالج کے تمام قانونی کاغذات موجود ہیں، لیکن دیہاتیوں کی شکایت پر پولیس نے انہیں گرفتار کر لیا ہے۔گرفتار ٹیچر عامر چاند شیخ کا کہنا ہے: "مجھے پھنسایا جا رہا ہے۔ محلے کے 5-7 لوگوں نے حسد کی وجہ سے یہ سب کیا ہے۔ وہ میری نوکری ختم کرنا چاہتے ہیں۔پولیس اور مقامی ذرائع کے مطابق، علاقے میں زمین کے ایک ٹکڑے کو لے کر ٹیچر کے خاندان اور دیہاتیوں کے ایک گروہ کے درمیان طویل عرصے سے تنازع چل رہا تھا۔ حال ہی میں جب ان کی والدہ کا انتقال ہوا، تو عامر نے قواعد کے مطابق ایک رضاکارانہ تنظیم کو آنکھیں عطیہ کر دیں۔ اس تنظیم سے رابطہ کرنے پر معلوم ہوا کہ انہوں نے تمام پروٹوکولز پر عمل کرتے ہوئے آنکھیں مرشد آباد میڈیکل کالج اسپتال بھیج دی ہیں اور ان کے پاس اس کی رسید بھی موجود ہے۔
Source: PC- tv9bangla
میتا نے ممتا بنرجی کی دی ہوئی ساڑھی پہن کر شادی کی
ایم پی کھگن مرمو اور شنکر گھوش حملے کی زد میں
ممتا کے آتے ہی فوج نے ترنمول اسٹیج کو کھولنا روک دیا
نیپال کی بدامنی بنگال میں بھی پھیل گئی، لیا گیا بڑا فیصلہ
دکان کے سامنے سے پاکستانی نوٹ برآمد ہونے سے سنسنی
آئی پی ایل پر 40فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا