ریاست میں انتخابات میں اب بمشکل تین ہفتے باقی ہیں۔ اس دوران ریاست کے امن و امان کی ذمہ داری الیکشن کمیشن نے سنبھال لی ہے۔ پرامن اور شفاف انتخابات کے مقصد سے یہاں کافی پہلے سے مرکزی فورسز تعینات کر دی گئی تھیں، لیکن اس کے باوجود بدامنی کے کئی واقعات پیش آئے ہیں۔ تازہ ترین واقعہ بدھ کی رات مالدہ کے کالیا چک میں ہونے والا عوامی احتجاج ہے، جس کے لیے کئی حلقے الیکشن کمیشن کو ہی ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں۔ جمعرات کی شام، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے ریاست کے ڈی جی پی، مالدہ اور کولکتہ کے پولیس سپرنٹنڈنٹس کی شدید کلاس لی۔ تاہم، یہ تنقید خود کمیشن کے لیے الٹی پڑتی دکھائی دے رہی ہے، کیونکہ انتخابات کے پیش نظر ان آئی پی ایس افسران کا تقرر خود کمیشن نے ہی کیا تھا۔ اپنے ہی مقرر کردہ افسران کی اس طرح کی ناکامی پر گیانیش کمار کی ٹیم کو سبکی کا سامنا ہے۔
Source: PC-sangbadpratidin
میتا نے ممتا بنرجی کی دی ہوئی ساڑھی پہن کر شادی کی
نندی گرام میں یوم شہدا کے موقع پر شوبھندوادھیکاری راستے میں
دھند کی وجہ سے موٹر سائیکل اور وین کی آمنے سامنے ٹکر ا گئی!2ہلاک
ایم پی کھگن مرمو اور شنکر گھوش حملے کی زد میں
ممتا کے آتے ہی فوج نے ترنمول اسٹیج کو کھولنا روک دیا
نیپال کی بدامنی بنگال میں بھی پھیل گئی، لیا گیا بڑا فیصلہ