مغربی بنگال اسمبلی انتخابات بالکل قریب ہیں۔ اگر سب کچھ ٹھیک رہا تو کمیشن مارچ کے پہلے ہفتے میں ہی انتخابات کی تاریخوں کا اعلان کر سکتا ہے۔ لیکن اس سے پہلے ہی، غیر معمولی طور پر مرکزی افواج بنگال پہنچ رہی ہیں۔ اس سلسلے میں پیر کو ریاست کے چیف الیکٹورل آفیسر (سی ای او) منوج اگروال نے ریاستی پولیس کے اعلیٰ حکام کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی۔ جس میں واضح کر دیا گیا ہے کہ کسی بھی صورت میں فورسز کو بٹھا کر نہیں رکھا جائے گا، بلکہ انہیں فوری طور پر کام پر لگایا جائے۔ ساتھ ہی انتظامیہ کو حساس بوتھوں کی فہرست تیار کرنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔ اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں ریاست کے ڈی جی پی پیوش پانڈے، ڈی جی (لا اینڈ آرڈر) ونیت گوئل، کولکتہ پولیس کمشنر سپرتیم سرکار، سی آر پی ایف کے آئی جی اور پولیس انتظامیہ کے دیگر اعلیٰ افسران موجود تھے۔ ذرائع کے مطابق، میٹنگ میں ریاست کی امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اور کئی اہم فیصلے لیے گئے۔ پولیس انتظامیہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ فورسز کے پہنچتے ہی فوری طور پر 'روٹ مارچ' شروع کر دیا جائے۔ اس کے علاوہ، کن علاقوں میں روٹ مارچ کیا جائے گا، اس کی فہرست پہلے ہی کمیشن کو فراہم کرنی ہوگی۔ اس پورے عمل کی نگرانی ریاستی پولیس کے ڈی جی پی اور مبصرین کریں گے۔ کمیشن نے اس میٹنگ میں فورسز کی نقل و حرکت اور ان کے قیام کے انتظامات کو بھی یقینی بنانے کی ہدایت دی ہے۔ یہ تمام اقدامات پرامن انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
Source: PC- tv9bangla
میتا نے ممتا بنرجی کی دی ہوئی ساڑھی پہن کر شادی کی
ایم پی کھگن مرمو اور شنکر گھوش حملے کی زد میں
ممتا کے آتے ہی فوج نے ترنمول اسٹیج کو کھولنا روک دیا
نیپال کی بدامنی بنگال میں بھی پھیل گئی، لیا گیا بڑا فیصلہ
دکان کے سامنے سے پاکستانی نوٹ برآمد ہونے سے سنسنی
آئی پی ایل پر 40فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا