مرشد آباد کے ساگردیگھی سے ترنمول کانگریسکے امیدوار بائرن بسواس کا حالیہ بیان سیاسی حلقوں میں کافی حیرت اور بحث کا باعث بن رہا ہے۔بائرن بسواس نے واضح طور پر کہا کہ ادھیر رنجن چودھری ان کے 'گرو دیو' اور بڑے بھائی کی طرح ہیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ ادھیر چودھری کی بدولت ہی سیاست میں آئے۔بائرن نے یہ تسلیم کیا کہ انہوں نے کانگریس چھوڑ کر ٹی ایم سی میں شامل ہو کر ادھیر چودھری اور کانگریس کے ساتھ 'خود غرضی کی بنیاد پر غداری' کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2023 کے ضمنی انتخاب میں ان کی جیت صرف کانگریس یا سی پی آئی ایم کے ووٹوں سے نہیں ہوئی تھی، بلکہ بی جے پی اور ٹی ایم سی کے ووٹرز نے بھی انہیں ووٹ دیا تھا۔انتخابات سے چند روز قبل بائرن نے ساگردیگھی کے عوام سے ایک عجیب اپیل کی ہے:"اگر آپ کو لگتا ہے کہ بی جے پی کا امیدوار یا کوئی دوسرا امیدوار مجھ سے بہتر ہے، تو اسے جتائیں۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ کوئی اور ہمیشہ آپ کے ساتھ رہے گا، تو بائرن بسواس کو جتانے کی ضرورت نہیں ہے۔بائرن بسواس کے اس بدلے ہوئے لہجے نے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں:کیا وہ اپنی سابقہ پارٹی چھوڑنے پر عوامی غصے یا ضمیر کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں؟کیا یہ ہمدردی حاصل کرنے کا کوئی نیا طریقہ ہے یا وہ اپنی موجودہ پارٹی (ٹی ایم سی) سے کسی وجہ سے ناراض ہیں؟23 اپریل کو ہونے والے انتخابات سے عین پہلے بائرن کے اس "اعترافِ جرم" نے مرشد آباد کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔
Source: PC-anandabazar
میتا نے ممتا بنرجی کی دی ہوئی ساڑھی پہن کر شادی کی
دھند کی وجہ سے موٹر سائیکل اور وین کی آمنے سامنے ٹکر ا گئی!2ہلاک
نندی گرام میں یوم شہدا کے موقع پر شوبھندوادھیکاری راستے میں
ایم پی کھگن مرمو اور شنکر گھوش حملے کی زد میں
ممتا کے آتے ہی فوج نے ترنمول اسٹیج کو کھولنا روک دیا
نیپال کی بدامنی بنگال میں بھی پھیل گئی، لیا گیا بڑا فیصلہ