انتخابی ریاست بنگال میں ایس آئی آر کے نتیجے میں تقریباً 54 لاکھ ووٹرز کے نام خارج کر دیے گئے ہیں۔ ابھی بھی 60 لاکھ نام زیرِ التوا ہیں۔ ادھر انتخابات سر پر ہیں۔ اس سے پہلے کیا واقعی ان زیرِ التوا افراد کے مسائل کا حل ممکن ہے؟ ریاست کے چیف الیکٹورل آفیسر منوج اگروال کو اس کی کوئی 'فکر' نہیں ہے۔ اسمبلی کے احاطے میں کھڑے ہو کر بے نیازی سے سی ای او نے صاف کہہ دیا کہ وہ نہیں جانتے کہ ان 60 لاکھ لوگوں کا کیا ہوگا۔ منوج اگروال نے کہا، "60 لاکھ لوگوں کا معاملہ ایڈجوڈیکیشن ہو چکا ہے۔ یہ تو ایس آئی آر گائیڈ لائنز میں نہیں تھا۔ معاملہ سپریم کورٹ گیا ہے۔ غیر معمولی حالات تھے، اس لیے غیر معمولی فیصلہ لینا پڑا۔" واضح رہے کہ انتخابات کی تاریخوں کا اعلان بہت جلد ہو سکتا ہے۔ لیکن سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ 60 لاکھ ووٹرز کی قسمت کا فیصلہ ہونے سے پہلے کیا واقعی ووٹنگ ممکن ہے؟ ترنمول اور سی پی آئی ایم جیسی سیاسی جماعتیں بھی اسی سوال پر آواز اٹھا رہی ہیں۔ اگرچہ سی ای او کا دعویٰ ہے، "انتخابات سے متعلق تاریخ کا اعلان میں نہیں کرتا۔ میرے پاس کوئی اختیار نہیں ہے۔ کمیشن مجھ سے مشاورت بھی نہیں کرے گا۔ 60 لاکھ میں سے 6 لاکھ کا مسئلہ حل ہو گیا ہے۔ باقی کا کیا ہوگا، ہم نہیں جانتے۔ کمیشن آکر فیصلہ کرے گا۔ وہ کیا ہوگا، ہمیں نہیں معلوم۔ سیاسی جماعتیں ان 60 لاکھ کے بارے میں جو کہہ رہی ہیں وہ ان کا معاملہ ہے۔ لیکن حتمی فیصلہ تو کمیشن کو ہی کرنا ہوگا۔"
Source: PC- sangbadpratidin
میتا نے ممتا بنرجی کی دی ہوئی ساڑھی پہن کر شادی کی
ایم پی کھگن مرمو اور شنکر گھوش حملے کی زد میں
ممتا کے آتے ہی فوج نے ترنمول اسٹیج کو کھولنا روک دیا
نیپال کی بدامنی بنگال میں بھی پھیل گئی، لیا گیا بڑا فیصلہ
دکان کے سامنے سے پاکستانی نوٹ برآمد ہونے سے سنسنی
آئی پی ایل پر 40فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا