نادیہ: تھانہ کوتوالی کیس نمبر 144/26۔ آج اس کیس نے پورے بنگال میں ہلچل مچا دی ہے۔ پیشے سے استاد، امیر چاند علی نے اپنی والدہ کی آنکھیں عطیہ کی تھیں، لیکن گاو¿ں والوں نے الزام لگا دیا کہ انہوں نے اپنی ماں کی آنکھیں بیچ دی ہیں۔ حالانکہ ان کے پاس عطیہ کے تمام قانونی کاغذات موجود ہیں۔ امیر چاند نے اپنی والدہ کا قرنیہ (Cornea) مرشد آباد میڈیکل کالج ہسپتال میں عطیہ کیا تھا، اور اس قرنیہ کی بدولت اب تک 6 افراد کی بینائی واپس آ چکی ہے! لیکن اس 'جرم' کی پاداش میں استاد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ عدالت نے انہیں پولیس تحویل میں بھی بھیج دیا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ پولیس نے کس بنیاد پر انہیں گرفتار کیا؟ مذکورہ استاد کے وکیل اندر جیت بسواس کا موقف ہے: "بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعات 351(2)، 303(2) سب سیکشن 5 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ الزام لگایا گیا ہے کہ ایک بیٹے نے اپنی ماں کی آنکھیں بیچ دی ہیں، اور یہ شکایت ایک پڑوسی نے کی ہے۔" وکیل نے بتایا کہ ریکارڈ کے مطابق، 2024 میں جب استاد کی والدہ حیات تھیں، تبھی انہوں نے اپنی رضامندی دے دی تھی کہ ان کی موت کے بعد آنکھیں عطیہ کر دی جائیں تاکہ معاشرے کے 4-5 افراد کی بینائی واپس آ سکے۔وکیل کے مطابق اس قرنیہ سے اب تک 6 افراد مستفید ہو چکے ہیں، لیکن "یہ نیک کام کرنے کی وجہ سے ایک ہی خاندان کے پانچ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
Source: PC- tv9bangla
میتا نے ممتا بنرجی کی دی ہوئی ساڑھی پہن کر شادی کی
ایم پی کھگن مرمو اور شنکر گھوش حملے کی زد میں
ممتا کے آتے ہی فوج نے ترنمول اسٹیج کو کھولنا روک دیا
نیپال کی بدامنی بنگال میں بھی پھیل گئی، لیا گیا بڑا فیصلہ
دکان کے سامنے سے پاکستانی نوٹ برآمد ہونے سے سنسنی
آئی پی ایل پر 40فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا