Bengal

50 ہزار روپے کی کرتی کے پیچھے 'گینگز آف پیل خانہ کا تصادم، پروموٹر کے قتل کی اصل وجہ پولیس نے تلاش کر لی

50 ہزار روپے کی کرتی کے پیچھے 'گینگز آف پیل خانہ کا تصادم، پروموٹر کے قتل کی اصل وجہ پولیس نے تلاش کر لی

ہوڑہ کے پلکھانہ میں پروموٹر شفیق خان کے قتل کے پیچھے کئی وجوہات سامنے آ رہی ہیں، لیکن پولیس کا خیال ہے کہ اس سازش کے پس پردہ لباس کے کاروبار سے متعلق تنازع ہی اصل وجہ ہے۔ تفتیش کاروں کا دعویٰ ہے کہ خواتین کی کرتیوں کی خریداری سے متعلق ایک جھگڑے نے پیل خانہ شوٹ آوٹ میں اشتعال انگیزی کا کام کیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق، ایک دوسری ریاست کے کپڑوں کے تاجر نے ہوڑہ کے فورشور روڈ کے رہائشی پرویز نامی تاجر کو آن لائن 50 ہزار روپے کی کرتیوں کا آرڈر دیا تھا۔ تاہم، الزام ہے کہ اسے پھٹی ہوئی کرتیاں بھیجی گئیں، جس پر اس تاجر نے پیل خانہ کیس کے مرکزی ملزم ہارون خان سے رابطہ کیا۔ ہارون نے پرویز کو فون کر کے پیسے واپس کرنے کو کہا، لیکن پرویز نے اسے نظر انداز کرتے ہوئے شفیق سے رابطہ کر لیا۔ یہیں سے دو الگ الگ 'گینگز' کے درمیان تصادم شروع ہو گیا۔ تفتیش کاروں کا دعویٰ ہے کہ ہارون اس بات پر بضد تھا کہ شفیق اس معاملے میں مداخلت کیوں کر رہا ہے، اور اسی بحث کا نتیجہ بدھ کے روز ہونے والا شوٹ آو¿ٹ تھا۔ اطلاعات کے مطابق، شفیق کے قتل سے قبل ہارون ایک بار اپنے ساتھیوں کے ساتھ پرویز کے پاس گیا تھا اور اسے دھمکی دی تھی۔ اس کے جواب میں منگل کی شام شفیق اپنے گروہ کے ساتھ پیل خانہ میں ہارون کو ڈھونڈنے گیا تھا۔ بدھ کی صبح ہارون نے ایک اور ملزم روہت کے ذریعے شفیق کو بلوا بھیجا، جس کے بعد تلخ کلامی ہوئی اورشفیق کو بالکل قریب سے گولی مار دی گئی۔ مقامی بی جے پی لیڈر امیش رائے کا دعویٰ ہے کہ شفیق اور ہارون کبھی گہرے دوست تھے، لیکن چند سال قبل گولاباری علاقے میں فائرنگ کے ایک واقعے کے بعد ان کے تعلقات بگڑ گئے۔ اس کیس میں دونوں نے ایک ساتھ جیل کاٹی تھی، جس کے بعد ان کی دشمنی شروع ہوئی اور دونوں نے اپنے الگ الگ گینگ بنا لیے۔ شفیق اور ہارون دونوں کے خلاف علاقے میں مختلف جرائم کے الزامات تھے۔ اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ ان کی طاقت کے پیچھے حکمراں جماعت کا ہاتھ ہے، تاہم ترنمول کانگریس نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ ہاوڑہ وسطی کے ایم ایل اے اور ریاستی وزیر اروپ رائے نے کہا کہ ملزمان کا ترنمول سے کوئی تعلق نہیں ہے اور پولیس تفتیش کر رہی ہے، مجرم جلد پکڑے جائیں گے۔ پروموٹر کے قتل کو دو دن گزر چکے ہیں اور پولیس اب تک تین افراد کو گرفتار کر چکی ہے، لیکن مرکزی ملزم ہارون اب بھی مفرور ہے۔ علاقے میں کشیدگی کے پیشِ نظر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے تاکہ مزید کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے۔

Source: PC- anandabazar

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments