سپریم کورٹ نے مغربی بنگال میں ووٹر لسٹوں کی درستی ایس آئی آر کے معاملے پر اپنا سخت موقف برقرار رکھتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ حتمی فہرست 28 فروری کو ہی شائع ہوگی اور وقت کی حد میں کوئی توسیع نہیں کی جائے گی۔ عدالت نے ریاست کے اس اعتراض کو بھی مسترد کر دیا کہ اس فیصلے سے امن و امان کی صورتحال بگڑ سکتی ہے۔سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ الیکشن کمیشن مقررہ عمل کے ذریعے دستیاب ناموں کے ساتھ 28 فروری تک ووٹر لسٹ شائع کرے۔ اگر ضرورت پڑی تو بعد میں ایک اضافی فہرست کے ذریعے مزید نام شامل کیے جا سکتے ہیں، لیکن فی الحال جو کام مکمل ہو چکا ہے اسے شائع کرنا ہوگا۔ریاستی حکومت کے وکیل نے اس حکم کی مخالفت کرتے ہوئے استدعا کی تھی کہ اس سے ریاست میں امن و امان کا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔ تاہم، عدالت نے اس اعتراض کو خارج کرتے ہوئے کہا کہ جوڈیشل افسران کو اس کام کے لیے زیادہ وقت تک مامور نہیں رکھا جا سکتا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ مغربی بنگال میں ایس آئی آر کو لے کر پیدا ہونے والی صورتحال "استثنائی" ہے، جس کی وجہ سے عدالتی مداخلت ضروری ہو گئی ہے۔عدالت نے واضح کیا کہ ریاستی پولیس کے ڈی جی پی اور متعلقہ ضلع مجسٹریٹ عدالتی احکامات پر عمل درآمد کرانے کے براہِ راست ذمہ دار ہوں گے۔ جوڈیشل افسران کے احکامات کو سپریم کورٹ کا حکم تصور کیا جائے گا جس پر ریاست کو فوری عمل کرنا ہوگا۔سپریم کورٹ سے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹی ایم سی ایم پی اور سینئر وکیل کلیان بنرجی نے اسے ایک 'تاریخی دن' قرار دیا:انہوں نے کہا، "آج چیف الیکشن کمشنر کا یہ تکبر ختم ہو گیا کہ وہی سب کچھ ہیں۔ ساڑھے سات لاکھ ناموں کو مشکوک قرار دے کر نکالنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔"انہوں نے مزید کہا کہ اب ہائی کورٹ کے مقرر کردہ جوڈیشل افسران ہی یہ طے کریں گے کہ ڈیٹا میں تضاد کے دعوے درست ہیں یا غلط۔ آئین میں انسانی حقوق سب سے مقدم ہیں۔
Source: PC- sangbadpratidin
میتا نے ممتا بنرجی کی دی ہوئی ساڑھی پہن کر شادی کی
ایم پی کھگن مرمو اور شنکر گھوش حملے کی زد میں
ممتا کے آتے ہی فوج نے ترنمول اسٹیج کو کھولنا روک دیا
نیپال کی بدامنی بنگال میں بھی پھیل گئی، لیا گیا بڑا فیصلہ
دکان کے سامنے سے پاکستانی نوٹ برآمد ہونے سے سنسنی
آئی پی ایل پر 40فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا