Bengal

250 خاندانوں نے ترنمول چھوڑ کر ہمایوں کی پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی

250 خاندانوں نے ترنمول چھوڑ کر ہمایوں کی پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی

بردوان 27فروری :پرانے گھر کو توڑ کر ہمایوں کبیر اپنی نئی عمارت کھڑی کر رہے ہیں، اور ان کی طاقت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ اب انتخابات سے قبل ان کی پارٹی میں شمولیت کی لہر دوڑ گئی ہے، وہ بھی خاص طور پر ترنمول کانگریس سے۔ چند ہی دنوں کے فرق سے مشرقی بردوان کے پورباستھلی میں ایک بار پھر ترنمول چھوڑ کر 250 خاندان بھرت پور کے ایم ایل اے اور 'جنتا وکاس پارٹی' (جنتا اونین پارٹی) کے کنوینر ہمایوں کبیر کی جماعت میں شامل ہو گئے ہیں۔ یہ واقعہ پورباستھلی-2 بلاک کی نیم دہ پنچایت کے تحت دھرم پور گاوں کا ہے، جہاں 250 خاندانوں نے ترنمول کا ساتھ چھوڑ کر ہمایوں کی پارٹی کا دامن تھام لیا۔ یہ تمام افراد ترنمول کے کارکن یا حامی تھے۔ بنگال اسمبلی انتخابات کے قریب اس واقعے کو کافی اہم سمجھا جا رہا ہے۔ ان لوگوں نے پارٹی کیوں چھوڑی؟ شامل ہونے والوں کا دعویٰ ہے کہ "ترنمول حکومت اقلیتوں کو غلط راستے پر ڈال رہی ہے اور چوری چکاری سکھا رہی ہے، اسی احتجاج میں ہم یہ قدم اٹھا رہے ہیں۔"آج جنتا وکاس پارٹی کے سکریٹری اور پورباستھلی نارتھ اسمبلی حلقہ سے امیدوار بابن گھوش کے ہاتھوں ان 250 خاندانوں نے پارٹی کا جھنڈا تھاما۔ بابن گھوش کے مطابق: "یہ لوگ کافی عرصے سے ہم سے رابطے میں تھے۔ جب میں نے ان سے کہا کہ 'یووا ساتھی' (سرکاری اسکیم) کا فائدہ لینے کے لیے لائن میں لگ جاو، تو انہوں نے جواب دیا کہ ایک بکرے کی قیمت 10 ہزار روپے ہے، ہم ڈیڑھ ہزار روپے کے لیے اپنی تعلیم یافتہ زندگی کا سودا نہیں کر سکتے۔ ہم اب اس حکومت کے ہاتھوں مزید بیوقوف نہیں بنیں گے۔" قابل ذکر ہے کہ دو دن پہلے بھی اسی پورباستھلی میں بابن گھوش کی موجودگی میں 150 خاندانوں نے ترنمول چھوڑ کر ہمایوں کی پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی۔ ایک ہفتہ بھی نہیں گزرا کہ یہ تعداد مزید بڑھ گئی۔ سیاسی ماہرین اسے آنے والے انتخابات کے تناظر میں ایک اہم موڑ قرار دے رہے ہیں۔ پارٹی بنانے کے بعد سے ہی ہمایوں کبیر بڑے پیمانے پر ووٹ کاٹنے اور 'ہنگ اسمبلی' (ترشنکو سرکار) بننے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ اگرچہ ایسی حکومت کا بننا فی الحال دور کی بات لگتی ہے، لیکن ماہرین اس امکان کو مسترد نہیں کر رہے کہ وہ اقلیتی ووٹوں میں بڑی دراڑ ڈال سکتے ہیں۔

Source: PC- tv9bangla

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments