Bengal

170لوگوںکو نوکری دینے کے نام پر دس کروڑ روپئے کی دھوکہ دھڑی

170لوگوںکو نوکری دینے کے نام پر دس کروڑ روپئے کی دھوکہ دھڑی

سرکاری نوکری دِلوانے کے نام پر کئی کروڑ روپے کے فراڈ کا الزام عائد ہوا نادیہ کے رہائشی ایک سرکاری ملازم کے خلاف۔ ملزم گرام پنچایت کے سکریٹری ہیں۔ نام تیارتھ سرکار۔ تقریباً ۱۰ کروڑ روپے کے فراڈ کے الزام میں انہیں پولیس نے گرفتار کر لیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق، مختلف سرکاری عہدوں پر نوکری دِلوانے کا وعدہ کر کے کئی برسوں میں تیارتھ نے بے روزگار نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں سے کئی کروڑ روپے لیے۔ ایسی ہی ایک شکایت تھانے میں درج ہوئی تھی۔ اس کی بنیاد پر اتوار کی رات ملزم کو گرفتار کیا گیا۔ پیر کو انہیں رانا گھاٹ ذیلی عدالت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ نادیہ کے ہانس کھالی میں اس سرکاری ملازم کا گھر ہے۔ پہلے شیو نگرام پنچایت کے سکریٹری عہدے پر کام کرتے تھے۔ تبدیلی کے بعد چاپڑا کے برتی ہودا گرام پنچایت میں شامل ہوئے۔ ان پر الزام ہے کہ دونوں کام کی جگہوں پر کئی بے روزگار نوجوانوں کو سرکاری نوکری کا لالچ دیا۔ پنچایت کے متعدد محکموں میں مستقل عہدوں پر نوکری دِلوانے کے نام پر نوکری کے متلاشیوں سے فی کس کئی لاکھ روپے لیے۔ مقررہ وقت گزر جانے کے باوجوہ تقرری نامہ نہ ملنے پر نوکری کے متلاشیوں اور پنچایت ملازمین کے درمیان اختلاف شروع ہو گیا۔نوکری کے متلاشیوں نے جب جان لیا کہ ان کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے تو ان پنچایت ملازمین سے رقم واپس کرنے کا مطالبہ کیا۔ جواب میں ٹال مٹول کی گئی۔ الزام ہے کہ تقریباً ۱۷۰ افراد سے ۹ سے ۱۰ کروڑ روپے ہتھیانے کا الزام ہے تیارتھ پر۔ گرفتاری کے بعد رقم لینے کی بات تو مان لی، لیکن فراڈ کی بات سے انکار کیا ہے ملزم نے۔ اس سرکاری ملازم کا دعویٰ ہے کہ وہ بھی دھوکہ کھایا ہے! ایک جاننے والے کے وعدے کے مطابق وہ صرف اہل امیدواروں سے رقم لے کر اسے پہنچاتے تھے۔ اب اس شخص سے رابطہ نہیں کر پا رہے۔ پوری واردات کی تفتیش شروع کر دی ہے پولیس نے۔

Source: PC-anandabazar

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments