دوسرے مرحلے کی پولنگ میں محض چند گھنٹے باقی ہیں اور انتخابی تیاریاں آخری مراحل میں ہیں۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے گھر گھر ووٹر سلپ پہنچانے کی ذمہ داری بی ایل اوز کو سونپی گئی ہے، لیکن بنجاوں میں ایک بی ایل او پر ووٹر سلپ دینے کے بدلے 10 ہزار روپے مانگنے کا سنگین الزام لگا ہے۔ اس واقعے کے بعد متاثرہ شخص نے الیکشن کمیشن میں شکایت درج کرائی ہے، جس سے بنجاوں جنوبی اسمبلی حلقہ کے کالوپور گرام پنچایت کے علاقے میں سنسنی پھیل گئی ہے۔ حالانکہ ملزم بی ایل او نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ مرنمئی رائے، جو ایک مقامی اسکول میں ٹیچر ہیں اور اس علاقے میں بی ایل او کے طور پر کام کر رہی ہیں۔ مقامی رہائشی سشیل بسواس نے الزام لگایا ہے کہ مرنمئی رائے نے ان کی ووٹر سلپ دینے کے لیے 10 ہزار روپے کا مطالبہ کیا۔ پیسے دینے سے انکار کرنے پر کئی دنوں تک ان کی سلپ روک لی گئی۔سشیل بسواس کے اہل خانہ کا مزید کہنا ہے کہ پہلے جب ان کا نام ترمیمی ووٹر لسٹ میں نہیں آیا تھا اور انہیں سماعت کے لیے بلایا گیا تھا، تب بھی مذکورہ بی ایل او نے فی کس 10 ہزار روپے بطور 'بھتہ' مانگے تھے۔انتخابات سے عین قبل ووٹر سلپ جیسی اہم دستاویز کے عوض رقم کا مطالبہ کرنے کے اس واقعے نے مقامی ووٹروں میں شدید غصہ اور تشویش پیدا کر دی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کمیشن اس شکایت پر کیا کارروائی کرتا ہے۔
Source: PC-sangbadpratidin
میتا نے ممتا بنرجی کی دی ہوئی ساڑھی پہن کر شادی کی
نندی گرام میں یوم شہدا کے موقع پر شوبھندوادھیکاری راستے میں
دھند کی وجہ سے موٹر سائیکل اور وین کی آمنے سامنے ٹکر ا گئی!2ہلاک
ممتا کے آتے ہی فوج نے ترنمول اسٹیج کو کھولنا روک دیا
ایم پی کھگن مرمو اور شنکر گھوش حملے کی زد میں
نیپال کی بدامنی بنگال میں بھی پھیل گئی، لیا گیا بڑا فیصلہ